مولانا فضل الرحمان نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران احادیث کی روشنی میں فتنہ الخوارج کو بے نقاب کیا اور کہا کہ دنیا میں کچھ تنظیمیں وجود میں آئی ہیں جو دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں، علمائے دین پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں، ان میں یہ جرات کیسے پیدا ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جگہ جگہ علمائے کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں ایک سال کے اندر شہید کیا جانے والا تیسرا عالم دین ہے جو جمعیت کے لیے ستون تھا، باجوڑ میں ہم نے بیک وقت 90 جنازے اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے اپنے گمراہ کن ایجنڈے کے لیے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں، ایسے گمراہ لوگ سفاک، مجرم اور قاتل ہیں اور انہی لوگوں کا حدیث میں ذکر ہے کہ یہ اپنے وقت کے علما اور دین داروں کو قتل کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ضعیف احادیث کے غلط حوالے دے کر یہ قوتیں اپنے آپ کو مسلمان اور دوسروں کو کافر بتاتی ہیں لیکن جمعیت علمائے اسلام ان سے مرعوب نہیں ہوگی۔