فحش ڈیپ فیک تصاویر؛ ایلون مسک کے بچے کی والدہ کا گروک کیخلاف مقدمہ

ایلون مسک کے ایک بچے کی والدہ ایشلی سینٹ کلیئر نے ان ہی کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایک اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی کے چیٹ بوٹ گروک کے ذریعے ان کی غیر رضامندی کے بغیر فحش ڈیپ فیک تصاویر تیار کی گئیں۔

ایشلی سینٹ کلیئر نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان ڈیپ فیک تصاویر کے باعث انھیں شدید ذہنی اذیت، ہتکِ عزت اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ مقدمہ ایسے وقت میں دائر کیا گیا ہے جب کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل راب بونٹا نے بھی ایلون مسک کی کمپنی کو سیز اینڈ ڈِسسٹ نوٹس جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گروک کے ذریعے غیر رضامندی پر مبنی جنسی نوعیت کی تصاویر کی تیاری اور ترسیل فوری طور پر روکی جائے۔

ایشلی سینٹ کلیئر ایک مصنفہ اور سیاسی مبصر بھی ہیں اور ایلون مسک کے 16 ماہ کے بیٹے رومولس کی والدہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یہ جعلی تصاویر گزشتہ سال سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر گردش کرنے لگیں جہاں گروک چیٹ بوٹ دستیاب ہے۔

ان کے بقول یہ ڈیپ فیک تصاویر پلیٹ فارم کو رپورٹ بھی کیں مگر جواب میں کہا گیا کہ
یہ مواد پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

ایلون مسک کے بچے کی ماں نے بتایا کہ بعد ازاں ایک موقع پر یقین دہانی کروائی گئی کہ ان کی تصاویر بغیر اجازت استعمال نہیں کی جائیں گی۔

تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے بجائے میرا پریمیم سبسکرپشن اور تصدیقی نشان (ویریفکیشن) ختم کر دیا گیا اور جعلی اور تضحیک آمیز تصاویر کی اشاعت جاری رہی۔

مقدمے کے ساتھ منسلک بیان میں ایشلی سینٹ کلیئر نے کہا کہ میں شدید ذہنی اذیت اور درد سے گزر رہی ہوں۔ جب تک گروک ایسی تصاویر بناتا رہے گا یہ خوفناک خواب ختم نہیں ہوگا۔‘

دوسری جانب ایکس اے آئی کے وکلا نے بھی ٹیکساس کی وفاقی عدالت میں ایشلی سینٹ کلیئر کے خلاف جوابی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ سینٹ کلیئر نے صارف معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے تحت ایکس اے آئی کے خلاف مقدمات صرف ٹیکساس کی عدالت میں دائر کیے جا سکتے ہیں۔

کمپنی نے سینٹ کلیئر کے مالی ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

جس پر ایشلی سینٹ کلیئر کی وکیل کیری گولڈ برگ نے جوابی مقدمے کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انسان کے ذاتی نقصان اور غیر محفوظ ٹیکنالوجی کا معاملہ ہے۔ کوئی بھی عدالت اس حقیقت کو تسلیم کرے گی۔

یاد رہے کہ ایلون مسک کا گروک چیٹ بوٹ پہلے ہی برطانیہ، یورپی یونین، بھارت، ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن اور جاپان سمیت کئی ممالک میں تحقیقات اور پابندیوں کی زد میں ہے۔

جاپانی حکام نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ گروک کے ذریعے نامناسب تصاویر کی تیاری روکنے کے لیے تمام ممکنہ قانونی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

 

Similar Posts