ٹرمپ کی گرین لینڈ پر ٹیرف دھمکی، یورپی یونین پہلی بار جواب دینے کی لیے تیار

یورپی یونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک کو دی گئی نئی ٹیرف دھمکیوں کے بعد اپنے سب سے طاقتور تجارتی ہتھیار کے استعمال پر غور شروع کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا کہ یکم فروری سے ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گرین لینڈ کے معاملے پر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یکم جون سے یہ شرح بڑھا کر 25 فیصد کر دی جائے گی۔

امریکی صدر نے گرین لینڈ کو امریکا کی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ ان بیانات کے بعد واشنگٹن اور یورپی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ٹیرف اعلان کے فوری بعد یورپی ممالک کے نمائندوں کا اتوار کو برسلز میں ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ممکنہ جوابی اقدامات اور امریکا کے ساتھ مستقبل کے تعلقات پر غور کیا گیا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اجلاس کے بعد کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی یونین پہلی بار اپنا ’تجارتی ہتھیارکا‘ استعمال کرے۔

یہ ’تجارتی ہتھیارکا‘ دراصل یورپی یونین کا اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ ہے، جس کے تحت یورپی بلاک کسی بھی ملک کی معاشی دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے جواب میں سخت تجارتی پابندیاں لگا سکتا ہے۔

اس آلے کے ذریعے یورپی یونین امریکی مصنوعات پر بھاری جوابی ٹیرف لگا سکتی ہے، امریکی کمپنیوں کی یورپی منڈی تک رسائی محدود کر سکتی ہے اور انہیں یورپی سرکاری ٹھیکوں سے باہر کر سکتی ہے۔ حکام کے مطابق برآمدی پابندیاں بھی زیر غور ہیں۔

رائٹرز کے مطابق یورپی یونین 93 ارب یورو مالیت کے وہ جوابی ٹیرف بھی نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے جو جولائی 2025 میں امریکا کے ساتھ عارضی تجارتی جنگ بندی کے بعد مؤخر کر دیے گئے تھے۔

اُدھر آٹھ یورپی ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اتحادیوں کے خلاف ٹیرف کا استعمال ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو خطرناک حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین بین الاقوامی قانون اور اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی ٹیرف کو نیٹو اتحادیوں کے خلاف دباؤ کا غیر مناسب ذریعہ قرار دیا۔

یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے اپنے فیصلے واپس نہ لیے تو یورپی یونین فوری اور سخت تجارتی کارروائی کرے گی۔

Similar Posts