دنیا بھر میں دولت اور طاقت کا توازن تیزی سے ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں سمٹتا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم آکسفیم کی تازہ تحقیقی رپورٹ نے اس بڑھتی ہوئی خلیج پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ارب پتی افراد عام شہریوں کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں جمہوری نظام بتدریج کمزور اور عوامی آواز دبتی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس ارب پتیوں کی مجموعی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا کی بڑی آبادی خوراک کی قلت، مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف چند ہزار افراد کی دولت میں کھربوں ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری جانب اربوں انسان غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں ارب پتیوں کی مجموعی دولت میں 16 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو پچھلے پانچ سال کے اوسط سے تین گنا تیز ہے، اور یہ رقم تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 18.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ 2020 سے اس دولت میں 81 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران دنیا کی نصف آبادی غربت میں جی رہی ہے جبکہ چوتھائی افراد کو زندہ رہنے کے لیے باقاعدہ کھانا تک نصیب نہیں ہوتا۔
گزشتہ سال ارب پتیوں کی تعداد پہلی بار 3 ہزار سے تجاوز کر گئی، اور ایلون مسک پہلے ارب پتی بنے جن کی دولت نیم ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہوئی۔ آکسفیم کے مطابق، ارب پتی عام شہریوں کے مقابلے میں 4 ہزار گنا زیادہ سیاسی عہدوں پر فائز ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ 2.5 ٹریلین ڈالر کا اضافہ انتہائی غربت ختم کرنے کے لیے 26 بار کافی ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ارب پتیوں کے حق میں ٹیکس میں کمی، کارپوریٹ ٹیکسنگ کی عالمی کوششوں کو ناکام بنانا، یک اجمالی طاقت پر قدغن ہٹانا اور اے آئی سے متعلقہ اسٹاکس کی ترقی کو فروغ دیا۔ یہ پالیسیاں نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں اشرافیہ کو پروان چڑھا رہی ہیں۔ آکسفیم انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امیتابھ بیہارنے کہا، ”امیر اور غریب کے درمیان پھیلتا فاصلہ سیاسی خلا پیدا کر رہا ہے جو خطرناک اور ناقابل برداشت ہے۔“
عالمی ویلیوز سروے کے مطابق، 66 ممالک میں سے نصف لوگوں کا خیال ہے کہ امیر انتخابات خریدتے ہیں۔ حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے غذائی عدم تحفظ، غربت میں رُکاوٹ اور امداد میں کٹوتیاں ہوئیں، جو 2030 تک 14 ملین اموات کا باعث بن سکتی ہیں۔
سول آزادیوں اور سیاسی حقوق کو محدود کیا جارہا اور دبایا جا رہا ہے، 2024 مسلسل انیسویں سال تھا جب تمام ممالک کے ایک چوتھائی میں اظہار رائے کی آزادی محدود کیا گیا۔ گزشتہ سال 68 ممالک میں 142 سے زائد بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے جنہیں حکام نے عام طور پر تشدد سے کچلا۔ امیتابھ بیہار کا کہنا ہے کہ، ”معاشی غربت بھوک پیدا کرتی ہے، جبکہ سیاسی غربت غصہ جنم دیتی ہے۔“
آکسفیم کے مطابق دولت کا یہ ارتکاز صرف معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک سنگین سیاسی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جب بے پناہ دولت رکھنے والے افراد انتخابات، پالیسی سازی اور ریاستی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں تو مساوی نمائندگی کا اصول متاثر ہوتا ہے۔ کئی ممالک میں عوام یہ تاثر رکھتے ہیں کہ سیاسی نظام امیر طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے، نہ کہ عام شہریوں کے لیے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دنیا کے بڑے میڈیا ادارے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بڑی حد تک ارب پتیوں کی ملکیت یا اثر میں آ چکے ہیں۔ یہ سب نصف بڑی میڈیا کمپنیوں اور تمام اہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مالک ہیں۔ جِف بیزوس کا واٹرنگٹن پوسٹ، ایلون مسک کا ایکس (سابقہ نام ٹوئٹر)، اور برطانیہ میں چار خاندانوں کا 75 فیصد اخبارات پر کنٹرول اس کی مثالیں ہیں۔ فرانس میں ونسنٹ بولوَرے نے سی نیوز کو فاکس نیوز جیسا بنا دیا۔
اس قبضے سے میڈیا میں صنفی اور نسلی عدم توازن پیدا ہوا ہے۔ صرف 27 فیصد ٹاپ ایڈیٹرز خواتین اور 23 فیصد نسلی اقلیتوں سے ہیں۔ ایلون مسک کی ایکس پر قبضے کے بعد نفرت انگیز مواد میں 50 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کینیا میں حکام نے اسے ناقدین کے خلاف استعمال کیا۔
سیاسی اور معاشی ناہمواری کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں احتجاجی تحریکوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جب عوام کو محسوس ہوتا ہے کہ نہ صرف وہ معاشی طور پر محروم ہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی بے اختیار ہیں، تو غصہ، بے چینی اور عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ آکسفیم کے مطابق شدید عدم مساوات والے ممالک میں جمہوری تنزلی اور قانون کی بالادستی کو نقصان پہنچنے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
آکسفیم نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قومی عدم مساوات کم کرنے کے جامع منصوبے تیار کریں جن میں واضح ٹائم فریم، معیارات اور مسلسل نگرانی کے نظام شامل ہوں۔ اس کے علاوہ ارب پتیوں پر آمدنی اور دولت کی موثر ٹیکسنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کی غیر متناسب طاقت کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹ حکومتوں پر زور دیتی ہے کہ وہ دولت اور سیاست کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ ان میں امیر ترین طبقے پر مؤثر ٹیکس، شفاف سیاسی نظام، آزاد میڈیا کا تحفظ، اور شہری آزادیوں کی مضبوط ضمانت شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر ریاستیں طاقتور اقلیت کو خوش کرنے کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دیں، تو بڑھتی ہوئی ناہمواری کو روکا جا سکتا ہے۔
آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچہ رہ جائے گی، اور اصل اختیار دولت کے بل بوتے پر حاصل کیا جائے گا۔ ایسے میں مساوات، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے بروقت اور جرات مندانہ فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔