فائر فائٹرز کو متاثرہ عمارت سے گزشتہ رات سے اب تک مزید ایک بچے سمیت 5 افراد کے اعضاء ملے ہیں، جس کے بعد ایک فائر فائٹر سمیت ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15 ہوگئی ہے جبکہ 54 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے۔
کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں مگر آگ بڑھتی ہی رہی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گر گئے۔
آتشزدگی کے دوران گل پلازہ میں پھنسے ایک دکاندار آفتاب کا اپنے اہل خانہ کو بھیجا گیا آخری پیغام سامنے آگیا جس میں اس نے بتایا کہ وہ آگ میں پھنس گیا ہے، بہت خطرناک آگ لگی ہے، نکلنا بہت مشکل ہے، کوئی غلطی، کوتاہی ہوگئی ہو تو معاف کردینا۔