بھارتی میڈیا بنگلا دیش کیخلاف بھی زہر اگلنے لگا، فوج میں پاکستان کے حامی جنرل کی جانب سے بغاوت کی کوشش کا الزام

0 minutes, 0 seconds Read

بنگلا دیش کی فوج نے بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے بغاوت کے جھوٹے پروپیگنڈے کی سختی سے تردید کردی۔

بنگلا دیش کی فوج نے بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنگلا دیش کی فوج میں بغاوت کے آثار پائے جا رہے ہیں اورفوجی افسر جنرل فیض الرحمان کو مبینہ بغاوت کے الزام کے تحت زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔

بنگلا دیشی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آرکی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی میڈیا پر آنے والی فوج میں بغاوت کی خبریں سراسر غلط ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بنگلا دیش اوراس کی مسلح افواج کے استحکام اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کی گئی منظم سازش کا حصہ ہیں۔

فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بنگلا دیشی فوج مضبوط، متحد اور چیف آف آرمی اسٹاف کی قیادت میں اپنے آئینی فرائض سرانجام دینے کی مکمل پابند ہے۔

چین آف کمانڈ مستحکم ہے اور بنگلا دیشی فوج بشمول سینیئر جنرل، آئین، چین آف کمانڈ اور بنگلا دیش کے عوام کے ساتھ وفاداری میں غیر متزلزل ہیں۔ فوج کے اندر کسی بھی قسم کی ٹوٹ پھوٹ یا غداری سے متعلق تمام تر الزامات سراسر من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنگلا دیش کی فوج میں بغاوت کے آثار پائے جا رہے ہیں اور پاکستان کے حامی فوجی افسر جنرل فیض الرحمان کو مبینہ بغاوت کے الزام کے تحت زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان بنگلا دیش کی فوج میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے جنرل فیض الرحمان نے حال ہی میں بنگلا دیش میں موجود سیاسی عدم استحکام کے دوران آرمی چیف کے خلاف بغاوت کے لیے دستیاب اپنی طاقت اور حمایت کو جانچنے کے لیے آرمی ہیڈ کوارٹرم میں ایک اجلاس بھی طلب کیا تھا۔

دوسری جانب ’انڈیا ٹوڈے‘ نے 11 مارچ کو شائع ہونے والی اپنی خبر میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پاکستان حامی جنرل فیض الرحمان کو فوج میں مبینہ طور پر بغاوت کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔

’انڈیا ٹوڈے‘ کی خبر میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ آرمی چیف وقارالزمان نے لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان کو زیر نگرانی رکھنے سے متعلق حکم نامہ اُس وقت جاری کیا جب انھیں اس حوالے سے ایسے اشارے ملنا شروع ہوئے کہ وہ اُن کی جگہ لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

پاکستان کی جانب سے انڈین ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اِن خبروں پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ بنگلا دیشی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے ان خبروں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

Similar Posts