غریب اورکمزور طبقے کے معاشی چیلنجز

پاکستان معاشی یا سیاسی اعتبار سے ایک بڑے خاموش انقلاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ حکمران اور طاقت ور طبقات اس خاموش معاشی سطح پر سامنے سنائی دینے والی دستک کو سننے کے لیے تیار نہیں ہے اور ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اعداد وشمار پر مبنی کھیل ایک خاص مقصد کے تحت سامنے لائے جاتے ہیں علاوہ ازیں ان معاملات میں حقایق سے زیادہ جذباتیت ، خوش نما نعروں یا وعدوں کی سیاست کا غلبہ نظر آتا ہے۔

ایک طرف حکومت کا مجموعی نقطہ نظر معاشی ترقی اور خوشحالی کے نعروں سے جڑا ہوا نظر آتا ہے تو دوسری طرف جو معاشی حقایق ہیں ، عام آدمی سمیت کمزور اور محروم طبقات کا معاشی مقدمہ ہے اس کا فریم ورک حکمرانوں کے فریم ورک سے بہت مختلف ہے۔ حکمرانوں کے فریم ورک پر مجموعی طور پر جہاں مایوسی ہے وہیں حکومت پر اعتماد کا بحران بھی ہے جو اس نظام کی بہتر ساکھ کو متاثر کرتا ہے ۔

یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان میں غریب اور نچلے طبقہ کو معاشی اعتبار سے کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جو ملک کی مجموعی معیشت، افراط زر، بے روزگاری اور ناہمواری کی وجہ سے مزید خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔کیونکہ پاکستان میں غربت کی شرح میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔2018میں غربت کی شرح 21.09فیصد تھی جو2023ء تک 39فیصد سے زیادہ دیکھنے کو ملی ہے ۔جب کہ 2025-26ء میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے ۔نچلے طبقہ کی آمدنی بنیادی طور پر مزدوری پر منحصر ہے جو ناکافی ہے اور افراط زر کی وجہ سے کم ہورہی ہے۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خوراک،بجلی ،ایندھن ، گیس،پٹرول، ڈیزل اور کھانے پینے سمیت ادویات کی قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس نے عام اور کمزور افراد کی معاشی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

2025ء میں افراط زر کی شرح دوہرے ہندسوں میں رہی جو غریب طبقہ کی خریداری کی طاقت کو کمزور کر رہی ہے ۔اسی طرح بھاری بھرکم ٹیکسز یا بالواسطہ ٹیکسزسے قیمتیں مزید بڑھتیں یا ان میں اضافہ ہوتا ہے جو نچلے طبقہ پر بوجھ ڈالنے کا سبب بنتا ہے ۔اسی طرح معاشی سست روی جو جی ڈی پی کی شرح نمو3.2فیصد کے قریب ہے کی وجہ سے نئی نوکریاں نہیں پیدا ہورہی ۔جب کہ نچلے طبقہ میں بے روزگاری یا کم اجرت والی نوکریاں عام ہیں ۔بالخصوص دیہی سطح پر بڑھتی ہوئی بے روزگاری یا کم معاشی مواقع کی وجہ سے دیہی لوگوں کی معیشت بھی برے طریقے سے متاثر ہو رہی ہے۔یہ دیکھنے کو بھی مل رہا ہے کہ حکومتی سطح پر ترقیاتی اخراجات کم ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ قرضوں اور مالیاتی خساروں کا بوجھ ہے اور جو آئی ایم ایف کی وجہ سے عملی طور پر کمزور لوگوں کو معاشی ریلیف کے پروگرام مل رہے تھے ان میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔

جب کہ عام آدمی کے مقابلے میں سب سے زیادہ پریشانی یا فکر مندی ہمیں نئی ابھرتی ہوئی مڈل کلاس میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔اس مڈل کلاس کی سطح پر لوگوں نے کچھ دہائیوں سے اپنی زندگی کے معاملات میں بہتری پیدا کی یا ان کی زندگی میں کچھ بہتر سہولتیں دیکھنے کو ملی تھیں ۔لیکن یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اب جو معیشت سے جڑے حالات ہیں اس نے اول تو مڈل کلاس کی حیثیت کو تبدیل کرکے لوئر مڈل کلاس میں ڈال دیا ہے اور دوئم ان کی آمدنی اور اخراجات میں اس وقت کی معاشی بدحالی کی صورت میں جو عدم توازن قائم ہوا ہے اس نے ایک طرف ان کی معیشت کو بدحال کردیا ہے بلکہ اس طبقہ میں اب جہاں معاشی بقا کا مسئلہ ہے وہیں انھیں نفسیاتی مسائل اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہے جو ان کی موجودہ زندگیوں کو برے طریقے سے متاثر کررہا ہے۔ 

اس طبقہ میں گریڈ 17اور گریڈ18کے سرکاری ملازمین جن میں اساتذہ بھی شامل ہیں ان کے معاشی حالات بھی متاثر ہورہے ہیں۔میں ایسے کئی سرکاری افسران کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنے بچوں کو بڑے تعلیمی اداروں کے مقابلے میں چھوٹے تعلیمی اداروں میں داخل کروا دیا ہے یا ان کو پہلے سے دی جانے والی سہولتوں سے خود کو دست بردار کرلیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب ان حالات میں اس کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے ۔کیونکہ پاکستان کے پڑھے لکھے افراد کی معیشت نجی یعنی خود روزگار کے مقابل تنخواہ دار معیشت پر منحصر ہے تو اس سے جہاں نئے روزگار کم ہورہے ہیں وہیں روائتی ملازمتوں سمیت خود روزگار کا ماڈل بھی ناکامی سے دوچار ہے ۔نئی نسل جس کے بارے میں حکومت دعوی کرتی ہے کہ ہم نئے جدید ماڈل پر مبنی روزگار پیدا کررہے ہیںلیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل کی معیشت کی ترقی کا بڑا انحصار ڈیجیٹل لائزیشن سے جڑا ہوا ہے اور اس کی کامیابی کا بنیادی نقطہ گلوبل یا عالمی جڑت سے ہے جس میں اسے تیزترین انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی درکار ہے ۔لیکن نچلی سطح سے لے کر اوپر کی سطح تک جو نوجوان خود روزگار سے جڑے ہیں ان کو بنیادی انٹرنیٹ کی تیز ترین سہولت درکار نہیں اور جو نوجوان نچلی سطح پر موٹر سائیکل، گاڑی یا انٹرنیٹ کی بنیاد پر کچھ کماتے ہیں ان کو بھی شدید بحران کا سامنا ہے ۔

آج کی اس ڈیجیٹل لائزیشن کے دور میں ہم نئی نسل کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرکے معاشی ترقی کے نام نہاد سطح کے دعوے کرتے ہیں جو نئی نسل میں منفی ردعمل کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔میں روزانہ ایسے کئی نوجوانوں سے ملتا ہوں جو نوکری نہ ہونے کی وجہ سے خود روزگار کام سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ پڑھے لکھے نوجوان ہیں ان کے مسائل سن کر واقعی دل دکھی ہوتا ہے ۔جب کہ ہم اس کے مقابلے میں حکمران یا طاقت ور طبقات کے حکومتی وسائل کی بنیاد پر جو شاہانہ انداز دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ اس نئی نسل کا جرم کیا ہے اور کیوں اس نسل کا معاشی استحصال ہو رہا ہے۔

کئی نوجوان ایسے بھی ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم کمزور معیشت کی وجہ سے اپنی بیماری کو گھر سے چھپاتے اور علاج سے گریز کرتے ہیں۔کئی نوجوانوں کے بقول ان کی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ محض دفتر کے کرایہ پر یا دوپہر کے کھانے پر خرچ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد ان کے پاس کچھ نہیں بچتا۔جو نوجوان کرائے پر موٹر سائیکل چلاتے ہیں ان کا گلہ یہ ہے کہ ان کو ٹریفک پولیس کی جانب سے تمام تر دستاویزات کے باوجود جو چالان کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سارے دن کی آمدنی ان ہی چالان پر خرچ ہوجاتی ہے ۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کم سے کم اجرت37ہزار روپے ہے ،لیکن ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد جو مختلف نوعیت کی ملازمتوں سے جڑے ہوئے ہیں ان کو بیس سے پچیس ہزار تنخواہ ملتی ہے مگر کوئی ان اداروں کے خلاف کسی بڑی کارروائی کے لیے تیار نہیں جہاں دس سے بارہ گھنٹے کے کام میں معاشی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جب نئی نسل کو کہا جاتا ہے کہ وہ سرکاری یا غیر سرکاری نوکریوں پر انحصار نہ کریں بلکہ خود سے اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں یا اپنی سطح پر ذاتی کاروبار کو ترجیح دیں ۔لیکن اس کے برعکس جو نوجوان خود سے اپنا کام شروع کرنا چاہتے ہیں ان کو مختلف حکومتی اداروں کی جانب سے مختلف انتظامی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے یا پھر ان سے بڑے پیمانے پر رشوت طلب کی جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے اس ملک سے پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں معاشی حالات کی بہتری کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں ،لیکن یہاں بھی ہم ان نوجوانوں کو سہولت یا معاونت کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے ہیں یا ان کی ملک سے محبت پر سیاسی فتوے جاری کرتے ہیں ۔

حالت یہ ہے کہ اس ملک کے تمام حکمران یا طاقت ور طبقات یا سیاسی جماعتیں یا ان کی قیادت یا یہاں کے بڑے بڑے کاروباری طبقات کے پاس اس نئی نسل کے معاشی مسائل کے حل کا ایجنڈا نہیں ہے اور نہ ہی ہم کسی سیاسی منشور یا حکومتی منصوبوں کی سطح پر اس کا کوئی فریم ورک رکھتے ہیں۔ جذباتی نعروں کے ساتھ نئی نسل کی معیشت کی درستگی کے دعوے محض سہانے خواب تو ہوسکتے ہیں لیکن اس طرز کی جذباتیت سے نئی نسل کے معاشی حالات بہتر نہیں ہونگے ۔اس لیے ہمارے یہاں معیشت کی بدحالی اور طاقت ور طبقہ کے معاشی مفادات کا تحفظ اور کمزور طبقہ کی بنیاد معاشی استحصال کی سیاست اس ملک میں ایک نئے سیاسی اور معاشی انقلاب کی دستک دے رہا ہے اور بہتر ہوگا کہ اس ملک کے طاقت ور طبقات معاشی مشکلات میں گھرے ان افراد کی آوازوں کو سننے کی کوشش کریں تو بہتر ہوگا۔

Similar Posts