ایک مسئلہ طاقت کی حکمرانی کا ہے ۔منطق یہ دی جاتی ہے کہ لوگوںکو درست سمت میں ہم اسی صورت جوڑ کر رکھ سکتے ہیں جب ہم مخالف آوازوں کو طاقت سے دبانے کی حکمت عملی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں۔اس طبقہ کے بقول جب نظام لوگوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی آواز اٹھائیں یا حکمرانی کے نظام کو چیلنج کریں تو اس سے حکمرانی کا نظام مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہو جاتا ہے ۔
جب جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل لائزیشن کا دور ہے، لوگوں کے پاس اپنی آواز اجاگر کرنے کے متبادل آپشن ہیں تو یہ عمل حکمران اور طاقت ور طبقہ کے لیے نئے مسائل کو جنم دیتا ہے ۔
اسی بنیاد پر ہم جمہوریت اور جمہوری آزادی یا جمہوری حقوق کو پاکستان جیسے معاشرے میں ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں ایسے لوگوں یا افراد جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں یا اہل دانش سے ہے وہ آزاد جمہوریت کے مقابلے میں ہمیں کنٹرولڈ جمہوریت ،ہائبرڈ جمہوریت ، ہارڈ ریاست یا ایک یا دو جماعتی نظام کی منطق دیتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ ہماری ریاست کو مکمل جمہوریت کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
یہ سوچ پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ بہت سے دیگر ممالک میں بھی جمہوریت کے بارے میں پہلے سے موجود اصول اورتصورات بدل رہے ہیں جس پر لوگوں میں اس کنٹرولڈ سوچ پر سخت ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے ۔بالخصوص جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں کے پاس رسمی میڈیا کے مقابلے میں ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت اور رسائی ہے تو ان کی آوازوں کو دبانے کا یہ عمل آسان نہیں رہا اور ہم بلاوجہ ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے افراد پر تنقید کرکے اپنا خوف دکھانے کی کوشش کررہے ہیں جو مزید سخت ردعمل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔
نئی نسل کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ اس کا سیاسی اور سماجی شعور کم مگر ذاتی معاملات کے بارے میں زیادہ ہے ۔نوجوانوں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ سیاست اور جمہوریت کی مضبوطی کے عمل سے لاتعلق ہیں یا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کام ہمارے کرنے کے نہیں ہیں ۔ حکومت ، سیاسی جماعتوں ،میڈیا اور سول سوسائٹی نے کئی دہائیوں تک نئی نسل کی سیاسی عمل میں شمولیت پر زور دیا ہے اور اس نقطہ کی اہمیت کو ہمیشہ اجاگر کیا کہ نئی نسل کے لوگ ووٹ بھی ڈالیں اور انتخابات میں حصہ بھی لیں اور اس میں نئی نسل کی خواتین کو بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
خاص طور پر مقامی حکومتوں کے انتخابات جو جمہوریت کی بنیادی درس گاہوں کا درجہ رکھتے ہیں وہاں نئی نسل کے لوگوں کو اس نظام کا حصہ بننا چاہیے۔خود الیکشن کمیشن قومی سطح پر یہ مہم چلاتا رہا ہے کہ نئی نسل کے لوگ بطور ووٹر رجسٹرڈ ہوں اور ووٹ بھی ڈالیں۔ لیکن اب کچھ دنوں سے دو خبروں نے پریشان کردیا ہے۔ پہلی خبر کے مطابق حکومتی حلقوںمیں اس نقطہ پر بحث ہے کہ ہمیں ووٹر کی عمر 18برس کی بجائے 25 برس کردینی چاہیے تاکہ وہی لوگ ووٹ ڈال سکیں جو سیاسی اور سماجی شعور رکھتے ہوں۔
اس نقطہ کو بنیاد بنا کر نئی ترمیم لانے کی باتیں بھی زیر بحث ہیں۔ پہلے تو یہ خبر مذاق لگی اور اس پر کوئی اہمیت نہیں دی ۔لیکن اس خبر پر اصل پریشانی اس وقت ہوئی جب پیپلزپارٹی کے ایک معروف راہنما قمر الزمان کائرہ ایک ٹی وی شو میں اس فیصلہ کی حمایت میں سیاسی جواز پیش کررہے تھے تو ایسے محسوس ہوا کہ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں میں یہ نقطہ کسی نہ کسی سطح پر زیر بحث ہے یا ان کی سیاسی مہم جوئی کا حصہ ہے۔
دوسری پریشان کن خبر یہ پڑھنے کو ملی کہ سینیٹ جیسے اہم قانون سازی کے ادارے میں سینیٹر فلک ناز چترالی نے 18برس سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعال پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی حمایت میں سینیٹ کی رکن فوزیہ ارشد اور طارق فضل چوہدری سمیت سینیٹر افنان اللہ نے بھی بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر اپنے تحفظات پیش کیے جو ظاہر کرتا ہے کہ نئی نسل پر مختلف نوعیت کی پابندیوں کے پیچھے انتظامی فیصلے کم اور سیاسی فیصلے زیادہ ہیں ۔
ہم نئی نسل کو ایک بڑے سیاسی خطرے کے طور پر پیش کر رہے ہیں تو ان کو روکنا ہماری سیاسی مجبوری بن گئی ہے ۔حکمرانوں کے پاس ان مسائل کا علاج تعلیم یا ان کی تربیت سے جڑا ہوا نہیں بلکہ ان کے خلاف پابندیوں یا طاقت کے استعمال کی صورت میں ملا ہے ۔اس سارے کھیل کے پیچھے ایک سیاسی جماعت اور اس کی قیادت کی نئی نسل سے جڑت کو کمزور یا سیاسی طور پر دبا کر اس کی طاقت کو کمزور کرنا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ہم اس نئی نسل سے کیونکر خوف زدہ ہیں اور کیوں ان کو اپنے سیاسی مفاد میں ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور کیا اس طرز کی غیر سیاسی اور غیر منطقی حکمت عملی نئی نسل کو قابو میں رکھنے میں حکمرانوں کو مدد دے سکے گی یا اس کا حکمرانوں کے خلاف مزید سخت ردعمل دیکھنے کو ملے گا۔ایک طرف ہم نئی نسل کو جدیدیت کی بنیاد پر ترقی اور تعلیم دینا چاہتے ہیں اور آن لائن تعلیم کی حمایت کررہے ہیں اور دوسری طرف ان کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی بھی لگانا چاہتے ہیں،اگر نوجوان سوشل میڈیا کو غلط طور پر استعمال کررہا ہے تو اس کا طریقہ ان کی تعلیم و تربیت ہے پابندی نہیں۔
اس طرز کی پابندیوں سے بہتری کے امکانات کم اور بگاڑ زیادہ ہوگا جو مزید مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔اسی طرح اگر ہم سمجھتے ہیں کہ نئی نسل کو ووٹ ڈالنے سے محروم کرکے ہم سیاست اور جمہوری عمل کو مضبوط کرسکتے ہیں تو بھی ہم غلطی پر ہیں۔ ایک زمانے میں جنرل ضیا الحق کے دور میں نئی نسل کا غیر سیاسی مزاج اور ذہن تبدیل کیا گیا اور اب اس طرز کی کوشش لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو سیاسی عمل سے دور لے جانے کا سبب بنے گی اور ان کا سیاسی نظام پر اعتماد کمزور ہوگا۔قمر الزمان کائرہ جب یہ کہتے ہیں کہ 18برس کا نوجوان سیاسی اور سماجی شعور یا منشور کے بارے میں بہتر آگاہی نہیں رکھتا یا وہ بہتر فیصلہ نہیں کرسکتا تو اول یہ ان کی نئی نسل کے بارے میں خوف کی پالیسی کو نمایاں کرتا ہے تو دوسری طرف اس منطق کو تسلیم کرلیا جائے تو یہ کہنا کیسے ممکن ہے کہ جو لوگ 18برس کی بجائے 25 برس میں ووٹ ڈالتے ہیں وہ سیاسی اور سماجی شعورکی بنیاد پر ووٹ ڈالتے ہیں یا اس ملک میں جو بڑی تعداد ناخواندہ ہے اس کے سیاسی اور سماجی شعور کا تعین کیسے ممکن ہوگا۔
اگر ہمارے حکمران واقعی نئی نسل کو خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں یا ان کو وہ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا شخصیت سے باہر نکالنے کی خواہش رکھتے ہیں تو اس کا علاج اس نسل کے خلاف مختلف نوعیت کی پابندیاں نہیں بلکہ نئی نسل کے سیاسی،سماجی اور معاشی مسائل کو سمجھ کر ان کے مسائل کا کوئی جامع حل تلاش کریں یا ان کا رشتہ حکومتی نظام کے ساتھ مضبوط کریں ۔
جب اس نئی نسل کو باعزت طریقہ سے روزگار اور بنیادی نوعیت کے حقوق کی دستیابی ممکن ہوگی تو یہ ہی نوجوان حکومت کی حمایت میں کھڑے ہونگے ۔ہمیں نئی نسل کو اپنا مخالف سمجھنے کی بجائے ان کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنا چاہیے تاکہ نئی نسل میں ردعمل کے طور پر سیاسی بغاوت جنم نہ لے اور وہ ریاست کی رٹ کو تسلیم کریں ۔