اس کے والدین نہیں تھے اور کوئی دیکھ بھال کرنے والا رشتے دار بھی نہیں تھا۔اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا،ہاں اس کی آواز اچھی تھی۔وہ نیو یارک کی اس ٹھٹھرتی رات ایک ایسے کوٹ میں ملبوس تھی جو اس کے سائز سے غالباً تین چار گنا بڑا تھا اور شاید بہت بوسیدہ ہو جانے کی وجہ سے کسی نے پھینک دیا تھا۔بچی کا نام سوفی تھا۔وہ گلی کی نکڑ پر ٹمٹماتی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑی ایک مشہور نغمہ گا رہی تھی۔یہ گانا ــمائی وے، ـ اور اس کی سُر اور لے اس نے بخوبی یاد کر رکھی تھی جسے فرانسس البرٹ سناترا یعنی فرینک سناترا نے گایا تھا۔بچی سناترا کو بالکل بھی نہیں جانتی تھی۔اس نے یہ گانا ایک ریسٹورنٹ کے باہر پھینکے گئے روٹی کے ٹکڑوں کو چنتے ہوئے سنا تھا۔ گانا اسے پسند آیا تھا ۔خوب ریاضت کے بعد اس نے یہ گانا سیکھ لیا۔یہ گانا بے گھر انتہائی غریب اور بے یارو مددگار سوفی کا واحد اثاثہ اور امید تھی۔
سوفی جہاں تھی وہاں سے تین بلاک دور فرینک سناترا ایک میٹنگ میں مصروف تھا۔وہ اب اکاون برس کا ہو چکا تھا۔فرینک سناترا اپنے وقت کی موسیقی کی دنیا کا بہت بڑا نام تھا۔وہ 1915میں اٹالین تارکین ِ وطن ماں باپ کے ہاں امریکا میں پیدا ہوا،اس نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم تو حاصل نہیں کی لیکن اپنے unique singingاسٹائل کی وجہ سے بہت جلد مشہور ہو گیا۔اس نے 1930کی دہائی میں گائیکی کیریئر شروع کیا اور جلد ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔
ایک دن ایک میٹنگ میں شرکت کے بعد سناترا کا ڈرائیور اس کو گاڑی میں واپس ہوٹل لا رہا تھا۔فرینک کو میٹنگ میں ہونے والی گفتگو یاد آ رہی تھی۔وہ سوچ رہا تھا کہ آیا وہ اصول پر کھڑا تھا یا محض تفاخر اور غرور اسے ایسا کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔فرینک نے سگریٹ سلگا رکھا تھا۔وہ بظاہر کار سے باہر دیکھ رہا تھا لیکن دراصل ابھی بھی میٹنگ کی کارروائی میں کھویا ہوا تھا۔اسی دوران ڈرائیور نے گاڑی کو خاصا آہستہ کیا اور فرینک سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا،باس کیا آپ کچھ سن رہے ہیں۔فرینک نے ذرا بیزاری سے پوچھا ،کیا، اور پھر وہ آواز اس کے کانوں کے ساتھ ٹکرائی۔ایک کمزور سی آواز جو ذرا دور سے آ رہی تھی لیکن اس آواز کو اگنور کرنا نا ممکن تھا۔فرینک نے کسی کو کمزور بچگانہ آواز میں اس کا مشہور نغمہ مائی وے گاتے ہوئے سنا اورڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہا۔ڈرائیور نے گاڑی کو اس جگہ کے قریب کیا جہاں گانا گایا جا رہا تھا۔فرینک نے شیشہ نیچے کیا تو انتہائی سرد ہوا نے اس کا استقبال کیا لیکن ساتھ ہی گانے کی خوبصورت لے اس کے کانوں سے ٹکرائی۔فرینک نے محسوس کیا اسے جا کر اس گانے کو سننا چاہیے۔اس نے شاید ہی کبھی ایسا محسوس کیا ہو۔اس نے ڈرائیور کو وہیں رکنے کا کہا۔وہ گاڑی سے باہر نکلا،گانے کی جگہ پہنچا تو اسے ایک کمزور سی میلے کچیلے،پھٹے پرانے کپڑوں میں تن ڈھانپے ایک بچی گاتی نظر آئی جس کے سامنے ایک کافی کین میں چند سکے پڑے تھے۔بچی نے آنکھیں تقریباً موند رکھی تھیں اور وہ گا رہی تھی۔فرینک اپنے قیمتی سوٹ اور کاشمیر اوورکوٹ میں ملبوس بچی سے تھوڑے فاصلے پر رک گیا۔
وہ بچی کو ڈسٹرب نہیں کرناچاہتا تھا۔رات کو ایک درخت کے پڑتے سائے میں کسی نے بھی یہ نہ جانا کہ کھڑا یہ شخص فرینک سناترا ہے۔لوگ گزر رہے تھے لیکن بچی اور اس کے گانے سے لا تعلق تھے۔ہاں چند ایک نے گزرتے گزرتے کافی کین میں کچھ سکے پھینکے۔ بچی نے گانا ختم کیا،آنکھیں کھولیں اور سکوں کو گنا تو مرجھا سی گئی۔یہ اتنے بھی نہیں تھے کہ ان سے بھوک مٹانے کے لیے روٹی خریدی جا سکے۔
فرینک آگے بڑھا اور بچی سے ہائے کہا۔بچی نے نظر اٹھا کر فرینک کو دیکھا لیکن بے اعتنائی برتی۔اس نے اس عمر میں سیکھ لیا تھا کہ جب Adult مرد قریب آئیں تو توجہ ہٹا کر چل دینا چاہیے۔فرینک دوبارہ اس سے مخاطب ہوا اور کہا کہ تمھارا گانا بہت خوبصورت تھا۔تمھاری آواز بہت اچھی ہے۔سوفی نے فرینک کے چہرے کا بغورجائزہ لیا اور ہلکے سے شکریہ ادا کیا۔فرینک نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ گانا کہاں سے سیکھا ہے۔سوفی نے جواب میں کہا کہ یہ گانا اس نے ایک ریسٹورنٹ کے باہر سنا ۔کیا تمھیں پتہ ہے کہ یہ گانا کس نے گایا ہے۔نہیں میں نہیں جانتی۔اس گانے کو فرینک سناترا نے گایا ہے۔سوفی نے پوچھا کیا فرینک سناترا بہت مشہور ہے۔
فرینک نے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا اور بتایا کہ وہ فرینک سناترا ہے لیکن بچی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا کیونکہ وہ اسے نہیں جانتی اور پہچانتی تھی۔فرینک نے پوچھا کہ تمھارے والدین کہاں ہیں۔جی میرے والدین نہیں ہیں۔ فرینک تڑپ اُٹھا۔وہ خود بھی ایک غریب علاقے میں پلا بڑھا تھا لیکن یہ غربت مختلف تھی۔اس نے بچی سے نام پوچھا۔سوفی۔فرینک نے بچی سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ آئے۔ بچی پہلے تو ہچکچائی لیکن فرینک کے اعتماد دلانے پر کہ وہ اس کی کچھ مدد کرنا چاہتا ہے چل پڑی۔گاڑی میں بچی کو اپنے اوورکوٹ میں لپیٹ دیا۔
وہ 9thایونیو پر ایک ریسٹورنٹ پر رکے۔رات کے گیارہ بج چکے تھے۔فرینک سوفی کے ساتھ داخل ہوا ۔ریسٹورنٹ میں ویٹریس ڈولورس فرینک کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔وہ پہلے بھی فرینک کو سرو کر چکی تھی لیکن آج اس کی اس طرح آمد کی منتظر نہیں تھی۔فرینک نے اسے سوفی کے لیے سب سے بڑا پلیٹر اور ملک شیک لانے کو کہا۔وہ خود کاؤنٹر پر گیا اور اپنی ایک جاننے والی خاتون کیتھرین کو فون کیا جو بچوں کی نگہداشت کا ایک سینٹر چلاتی تھی۔فرینک نے اسے پوری بات بتا کر جلد وہاں پہنچنے کو کہا۔فرینک فون کر کے واپس سوفی کے پاس آیا اورکافی پینے لگا۔ وہ بڑے لمبے عرصے بعد طمانیت محسوس کر رہا تھا۔
کیتھرین تھوڑی ہی دیر میں وہاں پہنچ گئی،سوفی نے کھانا ختم کیا اور فرینک کا شکریہ ادا کیا تو فرینک نے اسے کہا کہ اسے کیتھرین کے ساتھ جانا ہوگا جہاں اس کی ہر ضرورت کاؓ خیال رکھا جائے گا۔سوفی پریشان ہوئی اور پوچھا کہ آیا وہ بھی وہاں ہوگا تو فرینک نے بتایا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا لیکن وعدہ کرتا ہے کہ اسے ملنے آتا رہے گا اور اس کی ہر ضرورت پوری کرے گا اور فرینک سناترا نے وعدہ نبھایا۔ہمارا معاشرہ بہت بے حِس ہوتا جا رہا ہے۔کاش ہم میں سے ہر مخیر گھر رحمت اللعالمین کا نام لیوا کسی بے کس کا دامن تھام لے۔