ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ایس ایس پی آپریشن اور ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان کو صبح 10 بجے عدالت میں پیش کیا جائے۔
جج محمد افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ آج ہائیکورٹ کے آرڈر کی روشنی میں جرح کا آخری دن ہے، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کر دیا۔
کیس کی مزید سماعت کے دوران پولیس حکام نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا، جس میں پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکیورٹی ایشوز اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر 5 سے 6 گھنٹے کا وقت درکار ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ملزمان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ساڑھے 10 بجے بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم دے دیا، جب کہ کیس کی سماعت میں 10:30 بجے تک وقفہ کر دیا گیا۔
دوسری جانب راولپنڈی میں ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری کے معاملے پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی نے بھی آج ہڑتال کر دی۔
راولپنڈی میں وکلا نے عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دن ساڑھے 11 بجے احتجاجی اجلاس طلب کر لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار نے مطالبہ کیا کہ ایمان مزاری کو فوری طور پر رہا کیا جائے جب کہ صدر بار کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔