تارکین وطن کیخلاف آپریشن؛ امریکی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ میں ایک اور شخص ہلاک

امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیاپولِس میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ کے ایک اہلکار نے شہری پر گولیاں برسادیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کے حکم امریکا میں امیگریشن فورس کا آپریشن سخت سے سخت اور متنازع ترین ہوتا جا رہا ہے جس میں صرف ایک ماہ تین افراد مارے گئے۔

تازہ واقعے پر محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ اہلکار نے اپنے دفاع میں گولی چلائی۔ مارے جانے والے شخص کے پاس ایک ہتھیار اور دو میگزین بھی ملے ہیں۔

تاہم عینی شاہدین اور مارے گئے شخص کے اہل خانہ نے پولیس کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں نے غیر پیشہ ورانہ طریقہ اپنا اور سنگین غفلت برتی۔

علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ گورنر ٹم والز نے بھی فائرنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وائٹ ہاؤس سے براہِ راست بات کرنا کا عندیہ دیا۔

انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ موجودہ امیگریشن آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے کیونکہ ان میں تشدد، غیر تربیت یافتہ اہلکاروں کی تعیناتی اور شہریوں کے حقوق کے مسائل شامل ہیں۔

یاد رہے کہ منیاپولِس میں امیگریشن فورس کے آپریشن کے دوران پیش آنے والا فائرنگ میں ہلاکت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

پہلا واقعہ 7 جنوری کو پیش آیا جب 37 سالہ خاتون رینی گوڈ کو امیگریشن اہلکاروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

دوسرا واقعہ ٹھیک ایک ہفتے بعد 14 جنوری کو ہوا جس میں ایک وینزویلائی نژاد شخص کو گولیاں مار کر شدید زخمی کیا گیا تھا۔

 

 

Similar Posts