کچھ یادیں

جب ہم نے صحافت کی زنجیر پہن کر رقص کا آغاز کیا تو: 
سو تیر ترازو تھے دل اور
سو خنجر تھے پیوست گلو
ایوب خان کی ولولہ انگیز قیادت کا بابرکت، باحرکت اور بے ہمت زمانہ تھا۔ پشاور کی گلیوں میں سے بیشمار’’کثیرالاشاعت‘‘اخبار نکلتے جن میں کوئی چار، کوئی پانچ اور کوئی چھ پرچوں کی کثیرتعداد میں نکلتا تھا۔ ان ہی میں ایک صاحب جن کے نام کے ساتھ ہم مولانا بھی لگاتے تھے۔

وہ روزنامہ نکالتے تھے ، یہ صاحب تھے تو قریبی پنجاب کے لیکن پشاور میں سیٹ ہوگئے تھے اور یہاں تین سرگرمیاں کیا کرتے تھے۔ ایک تو اخبار کی سرگرمی، دوسری ایک مسجد میں نکاح خوانی کی سرگرمی اور تیسری اس وقت کے ڈپٹی کمشنر سکندر مرزا کے دفتر میں حاضری اور مسلم لیگ سازی۔ یہ خود انھوں نے اپنی یاداشتوں میں لکھا تھا۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ ہم خدائی خدمتگاروں کے مقابل مسلم لیگ کی تعمیر اور ممتاز مسلم لیگی بنانے کے لیے یوں کرتے تھے کہ کسی معروف کاسہ لیس خان کو بلالیتے تھے اور اس سے پوچھتے تھے کہ وہ کتنے دن یا ہفتے یا مہینے ’’لگا‘‘ سکتا ہے۔

وہ بتا دیتا تو اتنے عرصے کے لیے اسے جیل بھیج دیا جاتا تھا اور نکلنے کے بعد وہ ممتازمسلم لیگی رہنما بن چکا ہوتا۔ ایک اور بھی بہت زیادہ دلچسپ بات، ایک مرتبہ جب خدائی خدمتگاروں کا ایک جلسہ بمقام چمکنی کسی طور روکا نہ جاسکا تو ہم نے جلسے کے لیے پکنے والی دیگوں میں جمال گوٹہ ڈلوایا لیکن ایک خاص بات یہ لکھی ہے کہ سکندر مرزا اپنی کرسی پر بیٹھ کر اکثر پیپرویٹ توڑتا رہتا تھا۔ وہ یوں کہ حاضرین کو مظاہرہ کرکے ایک شیشے کا پیپرویٹ اٹھاتا اور سامنے دیوار پر زور سے مارتا اور کہتا حکومت برطانیہ یہ دیوار ہے اور یہ خدائی خدمتگار اور کانگریس والے شیشے کے پپرویٹ۔ یہ عظیم مملکت برطانیہ کا تو کچھ بھی بگاڑ نہ پائیں گے البتہ خود کرچی کرچی ہوجائیں گے۔ 

 ہم جب ہمارے ہاتھ کتاب لگی تو سکندرمرزا کو ایوب خان اپنے کیفرکردار تک پہنچا چکے تھے اور لوگ کہتے تھے کہ وہاں کسی ہوٹل میں مینجر کا کام کرتا رہا، ویسے آدمی وفادار تھے۔آخری رسوم کے لیے بھی اپنے آقاؤں کے دیس کو پسند کیا۔ معلوم نہیں وہاں پپرویٹ توڑتے تھے یا نہیں لیکن ان کی بیگم ناہید سکندر مرزا بہت اداس رہا کرتی تھیں اور اپنے اس سنہری زمانے کو یاد کرکے آہیں بھرتی تھیں، جب وہ پاکستان کی خاتون اول ہوا کرتی تھیں۔ اسی زمانے میں سنا ہے کہ اسے پرندے سخت ناپسند تھے، اس لیے اس نے ایوان صدر کے کئی ملازموں کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ ایوان صدر کی چھتوں یا دیواروں پر پرندوں کو نہ بیٹھنے دیں اور اڑایا کریں۔

شاید وہ لوگوں کو بتایا کرتی تھیں کہ میرے یہاں پرندے بھی پر نہیں مارسکتے لیکن آخر میں وہ لندن کی دیواروں سے پرندے نہیں اڑا پاتی تھی۔ اکثر جب ہم پیچھے دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ کیا لوگ تھے اور کیا کیا کرکے سدھار گئے۔ اپنے وقت میں ہر ایک کا یہی نعرہ ہوتا تھا، ہم سا کوئی ہو تو سامنے آئے لیکن وقت نے ان کو پرکاہ کرکے ایسا اڑا دیا کہ نام و نشان تک نہیں رہا۔ وہ ناہید سکندر جس کی تصویر کے بغیر پاکستان کا کوئی رسالہ، اخبار نہیں چھپتا تھا اور پاکستان کا ’’تصویری خبرنامہ‘‘ جیسے اسی کا تصویری خبرنامہ ہوتا۔

ٹی وی اس وقت آیا نہیں تھا لیکن لوگوں کو ان کے آقاؤں کے چہرے تو معتارف کرانا ہوتے تھے، اس لیے سینماؤں میں فلم شروع ہونے سے پہلے ’’پاکستان کا تصویری خبرنامہ‘‘ ایک لازمی جز ہوتا تھا اور وہ’’خبرنامہ‘‘ ایسا ہی ہوتا تھا جیسے آج کے اخباروں میں باتصویر بیان نامے ہوتے ہیں۔ علامہ نے کیا خوب کہا ہے:

جو تھا نہیں ہے جو ہے نہ ہوگا، بس یہی ہے حرف مجرمانہ۔ ایک نیند کا جھونکا ہوتا ہے جو گزر جاتا ہے اور لوگ اس کے لیے نہ جانے کیا کیا کرتے رہتے ہیں، کہاں کہاں اور کیسے کیسے گرتے رہتے ہیں۔ پروین شاکر، اس کا نام لے کر بھی دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ اس کے چند شعر یاد آرہے ہیں:

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
بجتے رہے ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا
تم نے تو بیاباں میں خیمے سجا لیے
تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا
تم موج موج مثل ہوا گھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا

خیر یہ تو چھوڑیے کہ آج تک اس دنیا سے کوئی بھی سوائے کفن کے اور کچھ نہیں لے جاسکا ہے، چاہے وہ کتنے ہی خزانے جمع کرلے۔ بات ہم اخبار والے صاحب کی کررہے تھے۔ بڑے کمال کے آدمی تھے۔ ہمیں جب بھی موقع ملتا، ان کی زیارت کرلیتے تھے۔ اپنے وقت کے سیاسی انسائیکلو پیڈیا تھے۔ اس وقت کے سیاسی لوگوں کے بارے میں ان کا ذخیرہ معلومات بے پناہ تھا اور ہمارا ان کے پاس جانے کا اصل مقصد بھی یہی تھا کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلتا تھا اور ہم ان کے ذخیرہ معلومات کے گنج بے بہا سے کچھ’’خوری‘‘ کر لیتے تھے۔

ایک دن ہمیں ایک بہت بڑی توپ کے بارے میں معلومات درکار تھیں کیونکہ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے والد ایک اسکول میں چھٹی کاگھنٹہ بجاتے لیکن بیٹا انگریزی گورنمنٹ کی آنکھ کا تارا بن کر بہت اوپر پہنچ گیا تھا۔ بہت سارے خطابات اور تمغہ جات کے علاوہ بہت بڑی جائیداد بھی بناگیا تھا۔ مولانا کو یاد دلایا تو مولانا اپنے مخصوص انداز میں بولے، ان کے باپ کے ’’دوگدھوں‘‘ کا کارنامہ ہے جو ’’مرکر‘‘ اس کی عاقبت سنوار گئے۔
مرکر ؟ ہم نے پوچھا۔

ہاں مر کر۔ اگر زندہ رہتے تو آج بھی اس کا خاندان وہاں گدھے چلاتا اور لوگوں کے گھروں میں پانی بھرتا۔ تفصیل چاہی تو بولے، اس کا باپ دو گدھوں کا مالک تھا، پانی کا چشمہ دور تھا، اس لیے وہ گدھوں پر چشمے سے پانی لاتا تھا اور خاص گھروں میں پہنچاتا تھا۔ جو اسے مہینے کے حساب سے ادائیگی کرتے تھے لیکن ایک دن اس کے دونوں گدھے چٹان سے لڑھک کر مر گئے۔ ان دو گدھوں کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔

حیران و پریشان تھا کہ اب کیا کروں گا۔ اس پریشانی کے عالم میں ایک دن اس نے فیصلہ کرلیا کہ شہر جایا جائے جہاں اس کا ایک رشتے دار کسی عمارت کا چوکیدار تھا۔ ارادہ یہ تھا کہ اس سے کچھ ادھار لے کر پھر نئے گدھے خرید کر اپنا دھندہ چلائے لیکن رشتہ دار نے ادھار کے بجائے ایک اور راہ دکھائی۔ اسے عمارت کے منیجر کے پاس لے جاکر صورتحال بتائی۔ اس نے اسے ایک اسکول میں چپڑاسی نما چوکیدار لگایا تو قسمت کا بند تالا کھل گیا۔ بیوی بچوں کو بھی لے آیا اور اسکول ہی میں ایک کوارٹر میں رہائش پزیر ہوگئے۔

ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی، بیٹے کو اسکول میں پڑھائی پر بٹھایا اور پھر ہوتے ہوتے پشاور پہنچا۔ پھر جب افغان اور فرنگی جنگ ہوئی، اس میں کارنامے دکھائے تو انگریزوں کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ جنگ اور تحریک ہجرت میں بھی کارنامے دکھائے لیکن سب سے بڑا کارنامہ ’’بچہ سقہ‘‘ کی دریافت تھا، یہ بھی ایک قسم کا بچہ سقہ تھا اور وہ بھی۔ یوں دو گدھوں نے اپنی جان دے کر اس کا مستقبل روشن کردیا۔

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
 ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار گئے

مدیرمولانا کے پاس ایسے اور بھی بہت سے واقعات اور شخصیات کی تاریخ تھی جن میں سے اکثر انھوں نے بڑی سچائی سے اپنی یاداشتوں میں محفوظ کی ہے لیکن افسوس کہ وہ یادشتیں اب نایاب ہیں، ہم نے بہت ڈھونڈا لیکن کہیں نہیں ملیں۔ کاش مل جائیں کیونکہ ہم سے بھی ایک مرحوم صحافی لے گیا تھا اور پھر واپس نہیں کیں۔
 

Similar Posts