امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منی ایپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنسی آئس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک شہری ہلاک ہو گیا۔ واقعے کے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئے اور وفاقی ایجنٹس کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منی ایپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنسی آئس کے اہلکار ایک فائرنگ کے واقعے میں ملوث پائے گئے ہیں، جس میں ایک شہری ہلاک ہو گیا۔
عینی شاہدین اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد اہلکاروں نے شہری کو گھیر کر زمین پر گرایا، جس کے بعد ایک اہلکار نے اس پر فائرنگ کی۔ واقعہ دن دیہاڑے پیش آیا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پھیل گئیں۔
مینیسوٹا کے گورنر ٹِم والز نے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس سے رابطے کی کوشش کی اور وفاقی امیگریشن کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات ریاست میں جاری آپریشنز پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
میئر جیکب فری نے کہا ہے کہ چھ یا اس سے زائد آئیس ایجنٹس نے ہمارے شہری پر فائرنگ کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس آپریشن کے خاتمے کے لیے مزید کتنے امریکیوں کی جانیں ضائع ہوں گی؟
میئر نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ امریکیوں کی زندگیاں سیاسی بیانیوں سے زیادہ قیمتی ہیں، اس آپریشن کوروکنے کے لیے آپ سے کتنی بارمنتیں کرنا پڑیں گی؟
واضح رہے کہ اس سے قبل 7 جنوری کو بھی منی ایپولس میں آئس اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک ہو گئی تھی، جس پر پہلے ہی شدید تنقید کی جا رہی تھی جبکہ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ کہ ویڈیو میں واضح ہے کہ خاتون نے جان بوجھ کر اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی اور فائرنگ خود کے دفاع میں کی گئی۔
تازہ فائرنگ کے واقعے کے بعد منیاپولیس میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور وفاقی ایجنٹس کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے امیگریشن آپریشنز بند کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مقامی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور متاثرہ علاقے سے دور رہیں۔