ہم اکثر سب سے پہلا سوال یہی کرتے ہیں کہ آگ کیسے لگی؟ شارٹ سرکٹ تھا یا جنریٹر پھٹا؟ کسی دکان میں گیس سلنڈر رکھا تھا یا وائرنگ پرانی تھی؟ یہ سوالات اہم ہو سکتے ہیں مگر بنیادی سوال یہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد بجھتی کیوں نہیں؟ کیوں ہر آگ ہمارے یہاں ایک طویل تھکا دینے والا خوفناک تماشہ بن جاتی ہے جس میں انسانی جانیں داؤ پر لگتی ہیں۔ کروڑوں اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔
آگ تو دنیا میں کہیں بھی لگ سکتی ہے۔ لندن، پیرس، ٹوکیو، نیویارک کہاں آگ نہیں لگتی مگر فرق یہ ہے کہ وہاں یہ ایک خبر ہوتی ہے یہاں سانحہ بن جاتی ہے۔
کسی بھی مہذب معاشرے میں ایمرجنسی رسپانس ایک مکمل نظام ہوتا ہے کوئی وقتی بندوبست نہیں۔ فائر بریگیڈ کے پاس جدید گاڑیاں ہوتی ہیں، اونچی عمارتوں تک پہنچنے والی سیڑھیاں ہوتی ہیں، طاقتور واٹر پمپس ہوتے ہیں، آگ سے بچاؤکے خصوصی لباس ہوتے ہیں، آکسیجن ماسک ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر واضح منصوبہ بندی اور تربیت ہوتی ہے۔
وہاں فائر فائٹرکو ہیرو اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہ خالی ہاتھ موت کے منہ میں چلا جائے بلکہ اس لیے کہ ریاست اسے محفوظ رکھ کر آگ کے مقابل کھڑا کرتی ہے۔
ہمارے یہاں فائر فائٹر اکثر خود ایک خطرے میں گھرا ہوا انسان ہوتا ہے۔ پرانی گاڑی،ناکافی پانی، کمزور پمپ، محدود حفاظتی لباس اور سامنے شعلوں کا سمندر۔ اگر واقعی آج ایک فائر فائٹر جان سے گیا ہے تو سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں اندر گیا، سوال یہ ہے کہ ریاست نے اسے بہتر تحفظ کیوں نہیں دیا؟ یہ کیسی بہادری ہے جس میں بہادر کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے؟ مگر یہ کہانی صرف فائر بریگیڈ کی نہیں۔ یہ اس نظام کی کہانی ہے جو حادثے کے بعد جاگتا ہے اور اگلے حادثے تک سو جاتا ہے۔
کیا کبھی سنجیدگی سے یہ جانچ کی گئی کہ کراچی جیسے شہر میں موجود بلند عمارتیں آگ سے نمٹنے کے لیے کتنی تیار ہیں؟ کیا کسی نے یہ پوچھا کہ بازاروں، پلازوں اور شاپنگ سینٹروں میں فائر ایکسٹنگوشرز موجود بھی ہیں یا نہیں؟ اور اگر نہیں ہیں تو کیا کبھی کسی دکاندار کو واقعی سزا ملی؟ یا پھر یہ سب کاغذی کارروائی ہے، فائلوں میں محفوظ عوام کی زندگیوں سے کٹی ہوئی؟
سیول ڈیفنس، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بلدیاتی ادارے یہ سب نام تو بڑے شاندار ہیں مگر زمین پر ان کی موجودگی اکثر آگ لگنے کے بعد نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آگ لگنے سے پہلے یہ ادارے کہاں ہوتے ہیں؟ کیا ان کی ذمے داری صرف حادثے کے بعد رپورٹ لکھنا ہے؟
ہم نے دیکھا ہے کہ کبھی فیکٹریاں جل جاتی ہیں، کبھی گھروں میں آگ لگ جاتی ہے، کبھی چولہے پھٹ جاتے ہیں، کبھی گودام خاک ہو جاتے ہیں۔ ہر بار ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔
انکوائری ہو گی، ذمے داروں کا تعین کیا جائے گا اور سخت ایکشن لیا جائے گا اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے اور پھر اگلے حادثے کی خبر آجاتی ہے۔
اصل مسئلہ آگ نہیں، اصل مسئلہ غفلت کو معمول بنا لینا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے انسانی جان کو سستا سمجھ لیا ہے۔ ہم نے یہ مان لیا ہے کہ کچھ لوگ مریں گے، کچھ خاندان اجڑیں گے، کچھ فائر فائٹرز دفن ہوں گے اور شہر چلتا رہے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شہر واقعی چل رہا ہے؟ یا ہم صرف ملبے کے اوپر زندگی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں؟
ریاست کا کام یہ نہیں کہ وہ صرف حادثے کے بعد دکھ کا اظہار کرے۔ ریاست کا کام یہ ہے کہ حادثہ ہونے ہی نہ دے اور اگر ہو بھی جائے تو نقصان کم سے کم ہو۔
یہ کام اس وقت ہوتا ہے جب عمارتیں بنانے سے پہلے فائر سیفٹی پلان دیکھا جائے، جب بازاروں کا باقاعدہ معائنہ ہو، جب دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ حفاظتی آلات رکھیں اور جب انکار پر واقعی کارروائی ہو۔ مگر ہمارے یہاں سوال پوچھنے والے کو ہی مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے، جو آواز اٹھائے وہ منفی کہلاتا ہے، جو احتساب مانگے وہ ریاست دشمن ٹھہرتا ہے، اور یوں آگ صرف عمارتوں میں نہیں لگتی ضمیر میں بھی لگتی ہے مگر وہ آگ ہمیں نظر نہیں آتی۔
گل پلازا کی آگ ایک بار پھر ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ ہم کب تک حادثوں کے رحم وکرم پر زندہ رہیں گے؟ کب تک ہر سانحے کے بعد چند آنسو چند بیانات اور پھر خاموشی کیا ہم ہمیشہ اسی وقت حرکت میں آئیں گے، جب پانی سر سے اوپر گزر جائے گا۔ سوال یہ نہیں کہ آج آگ کیوں لگی۔سوال یہ ہے کہ کل لگنے والی آگ کے لیے ہم آج کیا کر رہے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب خاموشی ہے تو یاد رکھنا چاہیے ،خاموشی بھی آگ کی طرح سب کچھ جلا دیتی ہے۔اور سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے بطور سماج سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔
حادثہ ختم ہوتا ہے تو ہم سوشل میڈیا پر چند دن شور مچاتے ہیں، تصاویر شیئر کرتے ہیں، غم و غصے کا اظہارکرتے ہیں اور پھر اگلی خبر ہمیں سب کچھ بھلا دیتی ہے۔ نہ کوئی اجتماعی دباؤ بنتا ہے نہ کوئی مستقل تحریک نہ کوئی یادداشت باقی رہتی ہے۔ اگر ہم واقعی زندہ سماج ہیں تو ہمیں ہر آگ کے بعد نہیں ہر آگ سے پہلے جاگنا ہوگا، ورنہ شعلے بار بار ہمیں یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ غفلت کی قیمت ہمیشہ جانوں سے چکائی جاتی ہے۔