18 ویں ترمیم کا تنازعہ

موجودہ اتحادی حکومت آئندہ ماہ اپنے دو سال مکمل کر لے گی مگر اس حکومت میں ہونے والی 26 اور 27 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد 18 ویں ترمیم پر اتحادی جماعتیں آمنے سامنے آ گئی ہیں اور دو وفاقی وزیروں خواجہ آصف اور رانا تنویر نے کھل کر 18 ویں ترمیم کی مخالفت شروع کر دی ہے جس پر پیپلز پارٹی نے سخت رد عمل دیا ہے اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر نے اسے حکومتی پالیسی قرار دیا ہے مگر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ خواجہ آصف کا ذاتی بیان ہے۔ وفاقی حکومت یا وزیر اعظم نے تو اس سلسلے میں کوئی بیان نہیں دیا مگر وفاقی وزیروں نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریروں میں 18 ویں ترمیم کے سلسلے میں جو بیان دیا، اس میں انھیں یہ وضاحت کرنی چاہیے تھی کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

ذاتی رائے دینے کا ہر ایک کو حق ہے مگر انھیں پہلے یہ وضاحت بھی دینی چاہیے ایسا نہ ہونے سے دو بڑی جماعتیں آمنے سامنے آگئی ہیں۔ واضح رہے کہ 15 سال قبل جب 18 ویں ترمیم منظور ہوئی تھی اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت اور آصف زرداری صدر تھے اور پی پی، مسلم لیگ اور بعض جماعتوں نے بھی ترمیم کی حمایت کی تھی مگر اس وقت پی پی کے رہنما لطیف کھوسہ نے 18 ویں ترمیم کے خلاف بیان دیا تھا۔

لطیف کھوسہ بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے اور صوبہ سرحد کا نام بھی اسی ترمیم کے تحت خیبر پختون خوا رکھا گیا تھا جہاں اے این پی اور پی پی کی حکومت تھی مگر اب اے این پی کا کہنا ہے کہ کے پی کا نام صوبہ خیبر ہونا چاہیے یہ انھیں اب یاد آیا ہے، پہلے اس کی حمایت کی گئی تھی مگر پی ٹی آئی خاموش ہے جو 2013 میں وزیر اعظم نواز شریف کی وجہ سے کے پی میں اقتدار میں آئی تھی جب کہ مولانا فضل الرحمن نے وزیر اعظم کو پی ٹی آئی کی حمایت سے منع کیا تھا جس کی سزا (ن) لیگ کی حکومت نے بھگتی اور کے پی میں پی ٹی آئی کی تیسری حکومت ہے جو (ن) لیگ کی 2013 کی اور اب 2024 کی حکومت کے لیے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے جس نے وفاق پر چڑھائی بھی کی تھی اور اب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کو آٹھ سو ارب روپے دیے گئے تھے جو نظر نہیں آ رہے کہ کہاں خرچ ہوئے۔ 18 ویں ترمیم سے صوبے بہت زیادہ بااختیار اور مالی طور پر مضبوط ہوئے اور کہا جاتا ہے کہ 18 ویں ترمیم نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بادشاہ بنا دیا اور 18 ویں ترمیم کے مطابق صوبے اس پر عمل کر رہے ہیں نہ اختیارات نیچے منتقل کر رہے ہیں جو انھیں بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرکے منتقل کرنا تھے مگر نہیں کیے۔

کسی صوبے نے بھی بااختیار مقامی حکومتیں قائم ہی نہیں ہونے دیں اور جو اختیارات اور فنڈز مقامی حکومتوں کو ملنے تھے وہ ہر وزیر اعلیٰ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے۔ایم کیو ایم نے بھی 18 ویں ترمیم کی اسی لیے حمایت کی تھی کہ ملک میں بااختیار مقامی حکومتیں قائم ہوں گی مگر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی حکومتوں نے ایسا نہیں ہونے دیا جس کی وجہ سے چاروں صوبوں میں بے اختیار بلدیاتی ادارے موجود ہیں اور مکمل طور پر صوبائی حکومتوں اور بیورو کریسی کے محتاج بنے ہوئے ہیں۔پی پی نے سندھ میں اور کے پی میں پی ٹی آئی نے اپنی مرضی کا بے اختیار بلدیاتی نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے اور پی ٹی آئی نے اقتدار میں آ کر پنجاب کا بلدیاتی نظام ختم اور اسلام آباد میں کئی بار ختم کیا جو عدلیہ نے بحال کیا۔

مسلم لیگ (ن) خود بے اختیار بھی نہیں ہونا چاہتی اسی لیے پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے جا رہے۔خواجہ آصف کو بھی بااختیار مقامی حکومتوں کا اب احساس ہوا ہے اور ایم کیو ایم 18 ویں ترمیم کے تحت بااختیار مقامی حکومتیں چاہتی ہے جس کے مقررہ مدت میں الیکشن ہوں مگر وفاقی حکومت ٹال مٹول کر رہی ہے اور اس سلسلے میں 28 ویں آئینی ترمیم کا آسرا دے رہی ہے مگر ارکان اسمبلی ایسی ترمیم نہیں ہونے دیں گے جس سے ان کی دلچسپی اس لیے نہیں کہ پھر انھیں ترقیاتی فنڈز نہیں مل سکیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ 18 ویں ترمیم حرف آخر نہیں مگر جب اس پر عمل ہی نہیں ہو رہا تو سپریم کورٹ کو اس پر ایکشن لینا چاہیے اور 18 ویں ترمیم پر مکمل عمل کرانا چاہیے۔

Similar Posts