پشین میں بڑا انٹیلی جنس آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن مکمل کیا۔ اس کارروائی میں انتہائی مطلوب دہشت گرد ثناء اللہ آغا سمیت 6 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ سی ٹی ڈی کے 10 اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔

سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے بتایا کہ دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے معتبر اطلاعات موصول ہونے پر فوری ایکشن لیا گیا۔

کارروائی گزشتہ روز پیر کو شروع ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی ہلاک ہونے والوں میں ثناء اللہ آغا، جو بھتہ خوری، قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث تھا، شامل ہے۔ ان پر اور ان کے ساتھیوں پر تقریباً 15 مقدمات (ایف آئی آرز) درج تھے۔

ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ ملزمان اپنے گھروں میں نہیں بلکہ کسی دوسرے شخص رشتہ دار کے مکان میں چھپے ہوئے تھےسیکیورٹی فورسز نے ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی جس پر جوابی کارروائی میں وہ اور اس کے 5 ساتھی ہلاک ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد دی گئی اور وہ اب خطرے سے باہر ہیں۔

کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا ہے جسے فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

 ڈی آئی جی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد کالعدم تنظیموں سے روابط رکھتے تھے اور بھتہ خوری کے ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ اس گروہ کے باقی ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور آپریشن جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی شاہد رند نے پریس کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کی تعریف کی انہوں نے کہا کہ پشین میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر فوری کارروائی کی گئی اور ریاست دہشت گردی، بھتہ خوری اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گی۔

یہ آپریشن بلوچستان میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا اہم حصہ ہے جس سے ایک خطرناک نیٹ ورک کو شدید دھچکا لگا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایسی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی اور کسی بھی دہشت گرد عنصر کو معافی نہیں دی جائے گی۔ علاقائی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیموں نے بھی آپریشن میں تعاون کیا۔

Similar Posts