آسٹریلیا کے جنوب مشرقی حصوں میں گرمی کی شدید لہر کے نتیجے میں جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں میلبورن شہر میں گزشتہ 17 برسوں کے دوران گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا اور دیہی علاقوں سے ہزاروں افراد کو نقل مکانی کا حکم بھی دیا جاچکا ہے۔
آسٹریلیا کی دوسری بڑی ریاست وکٹوریہ کے دارالحکومت میلبورن میں منگل کے روز پارہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا جبکہ کچھ علاقوں میں درجہ حرارت تقریباً 49 ڈگری سینٹی گریڈ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات کے ابتدائی ڈیٹا پر مبنی ہیں۔ اس صورتِ حال میں ریاست وکٹوریہ کے دیہی علاقوں سے ہزاروں افراد کو نقل مکانی کا حکم دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گرمی کی حالیہ لہر کو 2009 کے بدنام زمانہ ’بلیک سنیچر‘ کے بعد بدترین قرار دیا جا رہا ہے، جس میں وکٹوریہ میں 173 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شدید گرمی کے باعث ریاست کے بعض علاقوں میں آگ لگنے کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
وکٹوریہ کے چیف فائر آفیسر کرس ہارڈمین کے مطابق اس وقت چھ جگہ پر شدید آگ بھڑکی ہوئی ہے، جن میں سے تین جگہوں پر آگ تاحال قابو سے باہر ہے۔ صرف اوٹ ویز کے علاقے میں آگ تقریباً 10 ہزار ہیکٹر (24 ہزار ایکڑ) رقبے کو جلا چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ مزید پھیل سکتی ہے جس سے مقامی آبادی پر بھی خطرات منڈلانے لگے ہیں۔
آسٹریلوی میڈیا آئندہ دنوں میں یہ درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچنے کا خدشہ ہے۔ جس کے باعث مختلف ریاستوں میں شدید آگ کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

مقامی ماہرین کے مطابق حالیہ ہیٹ ویو کی وجہ فضا کی بالائی سطحوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز کے اوپر چند کلومیٹر کی بلندی پر ایک طاقتور اور ساکن ہائی پریشر سسٹم موجود ہے، جو اپنی جگہ برقرار ہے۔
چونکہ ہوائیں ہائی پریشر سے باہر کی جانب چلتی ہیں اس لیے یہ بلند دباؤ ہوا کو نیچے زمین کی طرف دھکیل رہا ہے، یہ عمل ہوا کے دباؤ میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس سے ہوا کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر ایک کلومیٹر نیچے آنے پر ہوا کا درجہ حرارت تقریباً 10 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں زمین کی سطح پر شدید گرم ہوا کا ایک گنبد (ہیٹ ڈوم) بن جاتا ہے۔
وکٹوریہ کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق مقامی افراد کے محفوظ انخلا کے لیے تقریباً 11 سو گھروں پر خود جا کر شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے جب کہ موبائل فونز پر بھی 10 ہزار کے قریب پیغامات بھیجے گئے ہیں۔
دوسری جانب میلبورن میں آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث میچز کے لیے مخصوص ہیٹ پروٹوکول پر عمل کیا جائے گا، جب کہ وہیل چیئر ٹینس کے مقابلے بدھ تک ملتوی کر دیے گئے ہیں۔