اسلام آباد یونائٹیڈ کو شاداب خان کی خدمات برقرار رکھنے کے لیے نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، سلمان علی آغا، محمد نواز اور عماد وسیم کو چھوڑنا ہوگا جبکہ لاہور قلندرز کپتان شاہین شاہ آفریدی کو ساتھ رکھتے ہوئے فخر زمان اور حارث رﺅف کی خدمات سے محرومی پر مجبور ہوں گے۔
بابر اعظم یا صائم ایوب مشکل فیصلہ پشاور زلمی کا بھی منتظر ہے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز فہیم اشرف، محمد عامر یا ابرار احمد میں سے کسی ایک کو ہی برقرار رکھ پائیں گے۔ کراچی کنگز پلاٹینیم کیٹیگری میں واحد پلیئر حسن علی اور ملتان سلطانز محمد رضوان کو ساتھ رکھ سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل 11 میں 2 نئی ٹیمیں حیدر آباد اور سیالکوٹ کے نام سے حصہ لیں گی، ان کو اہم کھلاڑیوں کی خدمات لینے کا موقع دینے کے لیے پی سی بی نے قوائد میں تبدیلیاں کیں ہیں۔ پہلے ہر فرنچائز کو 8 کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت ہوتی تھی، اب ہر ٹیم گزشتہ سیزن کے 4 کھلاڑی ہی ساتھ رکھ پائے گی۔
پلاٹینیم، ڈائمنڈ، گولڈ اور سلور کیٹیگری سے ایک، ایک کھلاڑی ریٹین کیا جا سکے گا۔ پہلے ٹیمیں مینٹورز، برانڈ ایمبیسڈرز یا رائٹ ٹو میچ سے زیادہ اسٹارز کو اپنے پاس برقرار رکھ لیتی تھیں، اب یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے، اس وجہ سے ہر ٹیم اپنے کئی اہم کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم ہو جائے گی۔
پی سی بی نے ریٹینشن کی فہرست کو حتمی شکل دے دی، بعض فرنچائزز نے ابتدا میں اعتراض کا ارادہ کیا تھا تاہم پھر اسے تبدیل کر لیا۔
اسلام آباد یونائٹیڈ کے شاداب خان، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، سلمان علی آغا، محمد نواز اور عماد وسیم کو پلاٹینیم کیٹیگری میں رکھا گیا ہے، ان میں سے صرف ایک ہی برقرار رہ سکے گا۔ اعظم خان، حیدر علی، سلمان ارشاد اور رومان رئیس گولڈ، محمد فائق اور حنین شاہ سلور جبکہ سعد مسعود ، محمد شہزاد اور غازی غوری کو ایمرجنگ کیٹیگری میں جگہ ملی۔
کراچی کنگز کے صرف حسن علی پلاٹینیم اور عباس آفریدی و شان مسعود ڈائمنڈ کا حصہ ہیں۔ خوشدل شاہ، عامر جمال، عرفان خان نیازی، میر حمزہ، زاہد محمود، عمیر بن یوسف، شاہنواز دھانی اور عرفان منہاس گولڈ جبکہ مرزا معمون امتیاز سلور میں شامل ہیں جبکہ ریاض اللہ، فواد علی اور سعد بیگ ایمرجنگ میں موجود ہیں۔
لاہور قلندرز کے شاہین آفریدی، فخر زمان اور حارث رﺅف کو پلاٹینیم میں رکھا گیا، کپتان کو ساتھ رکھنے کیلیے دیگر 2 دیرینہ پلیئرز ٹیم سے باہر ہو جائیں گے۔ عبداللہ شفیق اور محمد سلمان مرزا ڈائمنڈ، زمان خان، جہانداد خان، آصف آفریدی اور آصف علی گولڈ، محمد اخلاق اور محمد نعیم اور محمد عزب سلور جبکہ مومن قمر ایمرجنگ میں شامل ہیں۔
پشاور زلمی کو پلاٹینیم میں موجود بابر اعظم اور صائم ایوب میں سے کسی ایک کو ساتھ رکھنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑے گا۔ محمد حارث، محمد علی، عبدالصمد، حسین طلعت، احمد دانیال اور احسان اللہ گولڈ، جبکہ ڈائمنڈ میں سفیان مقیم، عارف یعقوب، مہران ممتاز سلور جبکہ عبداللہ فضل، علی رضا اور معاذ صداقت ایمرجنگ کا حصہ ہیں۔
ملتان سلطانز کے محمد رضوان پلاٹینیم، اسامہ میر، افتخار احمد اور عثمان خان ڈائمنڈ، کامران غلام، محمد حسنین، فیصل اکرم، عاکف جاوید، طیب طاہر گولڈ، یاسر خان، عامر برکی، محمد جنید، ہمایوں الطاف، علی عمران، جہانزیب سلطان اور عبید شاہ سلور جبکہ شاہد عزیز اور محمد ذوالفقار ایمرجنگ میں موجود ہیں۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے محمد عامر، فہیم اشرف اور ابرار احمد پلاٹینیم میں شامل ہیں، ان میں ایک ہی ٹیم میں رہ سکے گا۔ سعود شکیل، محمد وسیم جونیئر، عثمان طارق ڈائمنڈ، خرم شہزاد، حسیب اللہ خان، خواجہ محمد نافع، حسن نواز، دانش عزیز گولڈ، علی ماجد سلور جبکہ محمد ذیشان اور شامل حسین ایمرجنگ میں شامل ہیں۔