عوام ایس ایچ او کے نوکر نہیں، درخواست میں بخدمت نہیں لکھا جائے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو درخواست میں بخدمت جناب لکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ور اس عمل کو نوآبادیاتی سوچ قرار دیے دیا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے فیصلہ تحریر کیا، جس میں قرار دیا ہے کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے اور عوام اس کے نوکر نہیں ہیں لہٰذا ایس ایچ او کو صرف جناب ایس ایچ او لکھا جائے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرانی غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے، ایف آئی آر  درج کروانے والا شہری شکایت کنندہ نہیں بلکہ اطلاع دہندہ ہوگا، “کمپلیننٹ” کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہے۔

سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں “فریادی” کا لفظ بھی ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “فریادی” رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ناقابل قبول ہے، پولیس افسران کو سخت وارننگ دی جاتی ہے، ایف آئی آر  میں تاخیر پر PPC 201 کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے کیونکہ ایف آئی آر میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے نکتے پر واضح ہدایات کی گئی ہے اور قرار دیا ہے کہ پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی ضروری ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ 30 جنوری 2026 کو سنایا گیا۔

Similar Posts