تعلیم کے عالمی دن پر شہزاد رائے کا نغمہ؛ عشرت فاطمہ کا دلچسپ تبصرہ وائرل

معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے گلوکار شہزاد رائے کے نئے گانے پر ردِعمل دیتے ہوئے اپنی ذاتی زندگی کا ایسا پہلو بیان کر دیا جس نے سوشل میڈیا صارفین کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

معروف گلوکار شہزاد رائے تعلیم اور اسکول کی بہتری کے لیے انتھک محنت میں مصروف ہیں اور کئی پراجیکٹس کو سپروائز بھی کر رہے ہیں۔

حال ہی میں تعلیم کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک خصوصی نغمہ بھی جاری کیا جس میں تدریسی نظام میں پائی جانی والی سنگین غلطیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

اپنے نغمے میں شہزاد رائے بالخصوص بچوں کی عمروں، ان پر بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ اور گریڈنگ کے مسئلے کو سامنے لائے ہیں جن پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔

اس نغمے کو کافی پزیرائی ملی ہے اور شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات بھی اس بحث میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

لیجنڈری ٹی وی اینکر پرسن اور نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گانے کا ٹریلر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ گانا اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس نے بچوں سے اُن کا بچپن چھین لیا گیا۔

عشرت فاطمہ نے مزید بتایا کہ جب اُن کے بیٹے کی عمر صرف ڈھائی سال تھی تو اسکول میں داخل کروانا پڑا تھا۔ میں اُسے ڈائیپر پہنا کر اسکول بھیجا کرتی تھیں۔

اُنھوں نے شکوہ کیا کہ اس عمر میں کھیلنے کودنے کے بجائے بچے کو رنگوں، الفاظ، جسم کے اعضا اور نمبروں کی پہچان سکھانا داخلے کی شرط بن چکا ہے۔

عشرت فاطمہ نے موجودہ تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھاری بستے، دیر رات تک ہوم ورک، اور والدین کی مسلسل مشقت نے بچوں کی معصوم زندگی کو بوجھ بنا دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اب نہ تو اسکولوں میں کھیل کے میدان رہے ہیں اور نہ گلیوں میں وہ رونق ہوا کرتی ہے۔ بس کتابیں، اسائنمنٹس اور پریزنٹیشنز ہی رہ گئے ہیں۔

عشرت فاطمہ نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو مقابلے کی دوڑ میں نہ دھکیل لیں بلکہ انہیں سمجھ کے ساتھ سیکھنے کا موقع دیں۔

انھوں نے ممتاز گلوکار شہزاد رائے کو اس سنگین مسئلے پر آگاہی کے لیے نغمہ بنانے پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Similar Posts