تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ کمال نے ہر صوبے میں ڈی این اے لیبارٹری قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف سی ایریا میں ڈیجیٹلائزڈ فیڈرل ڈسپنسری کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کیا۔
ہیلتھ کیئر ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کے تحت وفاقی بنیادی مراکز صحت کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا عمل جاری ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے ایف سی ایریا میں کراچی کی تیسری ڈیجیٹلائزڈ وفاقی ڈسپنسری کا افتتاح کیا۔ یہ ڈسپنسری صحت کہانی اور وفاقی وزارت صحت کے تعاون سے قائم کی گئی ہے، جو پاکستان میں صحت کہانی کے تحت چھٹی ڈسپنسری ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت کہانی کی سی ای او سارہ سید خرم نے کہا کہ صحت کہانی ایک ٹیلی میڈیسن ادارہ ہے جسے وفاقی وزیر صحت کے تعاون سے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل کراچی کے ایئرپورٹ اور جیکب لائنز میں بھی ڈسپنسریز کو جدید بنایا جا چکا ہے، جہاں مریضوں کو معائنے کے ساتھ مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوشی کا دن ہے کہ وفاقی وزارت صحت کے ماتحت پرانی ڈسپنسری کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں دس ایسی ڈسپنسریز تیار کی جارہی ہیں، جن میں چھ اسلام آباد اور چار کراچی میں ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ نِپاہ وائرس کے حوالے سے این آئی ایچ نے چار روز قبل الرٹ جاری کیا ہے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، تاہم الحمدللہ پاکستان تاحال نِپاہ وائرس سے محفوظ ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ بڑے حادثات، ٹرانسپلانٹس اور پیچیدہ آپریشنز بڑے اسپتالوں میں ہوتے ہیں، لیکن 70 سے 80 فیصد صحت کی ضروریات بنیادی اور سیکنڈری مراکز سے پوری کی جاسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلے سانحات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ حادثات کی فائنڈنگز کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں، نہ کہ ایک حادثے کے بعد دوسرے کا انتظار کیا جائے۔