’جہدِ مسلسل‘ ایک شاندار داستانِ حیات

میرے ہاتھوں میں اس وقت “جہدِ مسلسل” کے نام سے ایک غیر معمولی شخصیّت کی خودنوشت ہے۔ اس کے مصنّف ملک کی معروف اور مقبول شخصیّت سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ ہیں، وہ پولیس سروس کے سُپر اسٹار رہے ہیں اور آج بھی نوجوان افسروں کی اکثریّت اگر کسی کو آئیڈیلائز کرتی ہے یا رول ماڈل مانتی ہے تو وہ ذوالفقار چیمہ صاحب ہیں۔

اس کے پیچھے کئی دہائیوں پر مشتمل ان کا اعلیٰ کردار ہے۔ پولیس ہی نہیں دوسرے محکموں کے افسران بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ چیمہ صاحب نے پوری سروس میں کبھی کسی حکمران (سول یا عسکری) کا غیر قانونی حکم نہیں مانا اور بڑے نامساعد حالات میں بھی ہر جگہ قانون کی حکمرانی قائم کر کے دکھائی ہے۔

مختلف حکومتوں نے کئی بار انھیں بلا کر بڑے مشکل ٹاسک دیئے اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے انھیں سرخرو کیا۔ انھوں نے اپنی قابلیّت، دیانت، جرأت اور غیر معمولی قائدانہ صلاحیّتوں کے باعث کئی ڈوبے ہوئے اداروں کو پاؤں پر کھڑا کردیا۔ پولیس سروس میں رہ کر بھی انھوں نے اپنا لوہا منوایا اور ریٹائرمنٹ کے بعد قلم اٹھایا، تو اس میں بھی انھوں نے کمال کر دکھایا ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ ان کی خودنوشت ’جہدِ مسلسل‘ چند مقبول ترین کتابوں میں شمار ہوگی۔ ان کی تحریر کی روانی، بے ساختگی، شگفتگی اور برجستگی نے اسے بے حد دلنشین بنا دیا ہے۔

کتاب کے پہلے ابواب میں انھوں نے اپنے بچپن، گاؤں اور گھرانے کا بڑی خوبصورتی سے نقشہ کھینچا ہے اور اپنے والد صاحب اور والدہ محترمہ کے اس کردار کا بھی ذکر کیا ہے جو وہ ایک ننھے بچّے کو ذوالفقار چیمہ بنانے میں ادا کرتی رہیں۔ جو والد اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نبھانے کے لیے اپنے بیٹے کے خلاف ووٹ دے دے اور جو ماں اللہ سے یہ دعا کرے کہ “اگر اس کے بیٹے کی کمائی میں حرام شامل ہو تو اسے اٹھالیں”  ایسے والدین کے بیٹے اسی طرح کے پاکیزہ کردار کے حامل ہوتے ہیں پاکباز ہوتے ہیں جیسے ذوالفقار چیمہ اور ان کے دونوں بھائی ہیں۔

 یہ خودنوشت ایک ایسی داستان ہے جس میں ایک نوجوان پولیس افسر شروع سے ہی اصول، حق، شجاعت اور عزم وحکمت کے ساتھ ملازمت کی کٹھن راہ پر اس وقار کے ساتھ چلتا ہے کہ پڑھنے والے اس پر رشک کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ دورانِ ملازمت وہ دور افتادہ علاقوں سے لے کر لاہور جیسے بڑے شہر کے پولیس سربراہ رہے، ملک کے وزیراعظم کے اسٹاف آفیسر سے لے کر آئی جی پولیس بھی رہے مگر ان کا حوصلہ واستقامت اور اصول پرستی قائم رہی اور انھوں نے کبھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا۔

وہ نوازشریف کے ابتدائی دور میں ’جہاں ظلم وہاں وزیراعظم‘ کے پروگرام کے سربراہ تھے۔ ملک بھر میں کہیں بھی کوئی اندوہناک سانحہ یا ظلم ہوتا تو وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر چوبیس گھنٹے کے اندر وہاں پہنچ جاتا۔ وہ ملک بھر میں رونما ہونے والے ایسے حادثات وواقعات پر نظر رکھتے تھے۔ مقامی حکام کو ہدایت دیتے اور ان کے مشورے پر وزیراعظم وہاں پہنچ جاتے۔ نوازشریف کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ اپنے پہلے دور میں وزیراعظم جذبے اور لگن کے ساتھ خدمتِ خلق کو اولین ترجیح دیتے تھے اور انتہائی خلوص سے کہتے کہ عام آدمی کو انصاف کی فراہمی ہی جنت میں جانے کا راستہ ہے۔ پھر وقت وحالات کے جبر نے سب کچھ بدل ڈالا اور اگلے ادوار میں ان میں وہ جذبہ نہ رہا اور نہ ہی ذوالفقار چیمہ جیسے لوگ ان کی ٹیم کا حصہ بن سکے۔

مصنف نے اس کتاب میں تمام واقعات کا ذکر بہت خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ زندگی میں جن شخصیات سے واسطہ ورابطہ رہا، ان سب کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار بلاکم وکاست بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے ایک سرکاری عمرے اور وفد کے ارکان کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ کھول دینے کے واقعہ کا ذکر بہت دلسوز انداز میں کیا ہے۔

اسی طرح جائیکا (JICA) کے زیرِ اہتمام جاپان میں پولیس ٹریننگ کا ذکر جس دلچسپ انداز میں کیا ہے، کہ انھی سالوں میں میں بھی JICA کی نفسیاتی امراض کی ٹریننگ کے لیے جاپان میں تھا۔ مصنف کا اندازِ بیان بہت سلیس، رواں اور شگفتہ ہے اور وہ مشکل سے مشکل بات بھی خوشگوار انداز میں بیان کرجاتے ہیں۔ ان کی سخت گیر اور اصول پرست شخصیت کے اندر ایک بہت سادہ اور خوشگوار طبیعت شخص چھپا ہوا ہے۔

ذوالفقار احمد چیمہ کی اعلیٰ شخصیت اور صلاحیتوں سے بڑے شہروں اسلام آباد اور لاہور کے باشندے تو بخوبی آگاہ ہیں مگر میں ذکر کروںگا ڈیرہ اسماعیل خان کا جو اَب بھی آلام کا شکار ہے مگر ایک دور میں یہ دہشت گردی کی شدت سے شعلہ فشاں تھا۔ اس دور میں ذوالفقار احمد چیمہ پولیس کے سربراہ کے طور پر یہاں تعینات ہوئے اور اپنی بہادری، بصیرت، حکمتِ عملی اور اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں سے اس خطے میں امن بحال کردیا۔ ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کے ساتھ انھوں نے شہر کی سماجی، ادبی، علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کو دوبارہ زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پولیس اور شہریوں کی مشترکہ تقریبات، ادبی مجالس، علمی سیمینارز منعقد کیے گئے۔ انھوں نے یہاں اعلیٰ علمی وادبی تقاریب منعقد کیں،جس سے سہمے ہوئے سماج میں حوصلہ اور ریاست پر اعتماد پیدا ہوا۔

بطور سب ڈویژنل پولیس آفیسر مصنّف کی پہلی پوسٹنگ پاکپتن میں تھی، جہاں وہ بطور اے ایس پی تعینات ہوئے، وہیں سے ان کی سیاسی اور مذہبی اشرافیہ کے ساتھ چپقلش شروع ہوگئی کیونکہ وہ گھر کی تربیّت کے باعث اپنے نظرئیے اور اصولوں کے پکّے تھے اور انھی گروپوں نے مل کر چیمہ صاحب کو پانچ مہینوں میں ہی تبدیل کرا دیا۔ دوسرے پڑاؤ مظفر گڑھ میں تھانے کے اندر تشدد سے ایک ملزم کی ہلاکت پر جب عوام نے تھانے کا گھیراؤ کرلیا تو نوجوان اے ایس پی ذوالفقار چیمہ نے جس طرح معاملے کو ہینڈل کیا وہ موجودہ پولیس افسروں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔

مظفرگڑھ میں الیکشن کے روز ان کا کھر صاحبان کے گاؤں کا دورہ کرنا بھی جاگیردارانہ ذہن کو ناگوار گذرا اور وزیراعلیٰ کو شکایت کردی گئی۔ بھلوال کا ایک واقعہ لکھتے ہیں “ایک روز میں دفتر میں بیٹھا تھا کہ اردلی نے چٹ لاکر دی، جس پر لکھا تھا “میں ایک اسکول ٹیچر ہوں اور آپ سے فوراً ملنا چاہتی ہوں” میں نے بلالیا خاتون کے ساتھ اس کی نوجوان بیٹی بھی تھی میں نے انھیں کرسی پر بیٹھنے کو کہا اورمسئلہ پوچھا وہ کہنے لگیں “میں چک نمبر… میں اسکول ٹیچر ہوں گاؤں کے چوہدری کا اوباش لڑکا اپنے ساتھیوں سمیت ہر روز میری بیٹی کو تنگ کرتا ہے۔ ہمارا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ میرا شوہر معذور ہے، ہم بے سہارا ہیں، ہماری عزّت کی حفاظت کرنے والا یہاں کون ہے؟” یہ کہتے ہوئے وہ رو پڑیں اور اس کے ساتھ بیٹی بھی رونے لگی۔ مجھے یوں لگا جیسے خاتون کا ایک ایک لفظ میری کلف لگی وردی اور میرے کندھوں پر لگے ستاروں کو نوچ رہا ہو۔

اس کے اس فقرے کا ایک ایک لفظ میرے دل ودماغ پر کوڑے کی طرح برسنے لگا “ہماری حفاظت کرنے والا یہاں کون ہے؟” میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا “میں ہوں نا میری بہن میں ہوں آپ کی عزّت کا محافظ، آپ پریشان نہ ہوں” پھر چیمہ صاحب نے اس اوباش کوجس طرح نشانِ عبرت بنایا، اس کے بعد اس گاؤں میں کسی بدمعاش کو کسی لڑکی کی جانب بری نظروں سے دیکھنے کی جرات نہ ہوئی۔ یہاں قاری کے دل سے دعا نکلتی ہے کہ یاالہٰی پولیس کے اختیارات اسے عطا کر جس کے اندر ذوالفقار چیمہ والی انسانی ہمدردی اور جذبہ بھی ہو۔ بھلوال کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی کے ملزم کیسے گرفتار ہوئے اور ان کا انجام کیا ہوا وہ واقعہ تو ایک فلمی کہانی کی طرح لگتا ہے، کتاب کے ساٹھ باب ہیں اور ہر باب دلچسپ واقعات سے مزیّن ہے۔

مصنف کی دوسری کتاب “افکار تازہ”   بڑے مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ مضامین مصنف کی اسلام، قوم وملک سے محبت، درد مندی اور حب الوطنی کے عکاس ہیں۔ اس میں پہلے تین اور آخری تین مضامین ہر قاری کو لازمی پڑھنے چاہئیں۔ اس کتاب میں پیارے اسامہ اور والدہ مرحومہ کے متعلق مضامین پڑھتے ہوئے بار بار آنکھیں بھیگ جاتی رہیں اور بار بار رکنا پڑا۔ دونوں کتابیں ہر صاحبِ علم کی لائبریری کا لازماً حصہ ہونی چاہئیں۔

Similar Posts