ایران، امریکا بات چیت کا مقام تبدیل، مذاکرات اب عمان میں ہوں گے

ایران اور امریکا کے درمیان جمعے کے روز شیڈول مذاکرات کا مقام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے مذاکرات ترکیہ کے شہر استنبول میں ہونے تھے تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے مقام کی تبدیلی کی خواہش پر اب یہ مذاکرات عمان میں ہوں گے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں صرف دو نکات زیرِ غور آئیں گے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے بدلے عائد بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات اب عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے جو ماضی میں بھی ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کا اہم مرکز رہا ہے۔

اِن مذاکرات میں ایران کی نمائندگی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کریں گے جبکہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف امریکا کی جانب سے مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ یہ مذاکرات عمان میں ہوں، کیونکہ یہاں اس سے قبل بھی اسی معاملے پر مذاکرات منعقد ہو چکے ہیں۔ ایران نے ترکیہ کے بجائے عمان میں مذاکرات کرانے کی درخواست اسی لیے کی تاکہ بات چیت کا دائرہ کار صرف جوہری پروگرام تک ہی محدود رہے۔

اس سے قبل پیر کے روز ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ تہران امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے خدوخال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے، جس میں بنیادی توجہ پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے قومی مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔

انہوں نے مذاکرات کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ایران کے لیے پابندیوں سے نجات اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ جوہری مسئلے کو طویل عرصے سے ایران کے خلاف دباؤ اور تصادم کا جواز بنایا جاتا رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران اس بات کے لیے تیار ہے کہ اپنے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت پر اعتماد سازی کے اقدامات کرے تاہم اس کے بدلے ایران کا بنیادی مطالبہ ’غیر منصفانہ اور ظالمانہ پابندیوں‘ کا مکمل خاتمہ ہے۔

اس سے قبل یہ مذاکرات ترکیہ کے شہر استنبول میں شیڈول تھے اور امریکا کی جانب سے پاکستان کو بھی ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے امریکا کی جانب سے دعوت موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

تاہم بدھ کے روز امریکی میڈیا نے سفارت کاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایران کو مذاکرات کے دوران علاقائی ممالک کی براہِ راست شرکت پر اعتراض ہے اور وہ صرف جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کو ہی مذاکرات کا بنیادی نکتہ بنانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو اس کے برے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ منگل کے روز امریکی فوج نے سمندر میں طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کے قریب آنے والے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا۔

رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں شریک ہونے والے تھے۔ ان مذاکرات میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کئی ممالک کے وزرا کی شرکت بھی متوقع تھی تاہم ایران صرف امریکا کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات چاہتا تھا۔

Similar Posts