بین الاقوامی جریدے یوریشیا کے مطابق یہ ضابطہ قانون کے نام پر نظریاتی اطاعت اور جبر پر مبنی ریاستی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے فوجداری ضابطے کے تحت طبقاتی انصاف کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مساوی قانونی حقوق کا تصور مزید کمزور ہو گیا ہے۔ ضابطے میں مذہبی اور سیاسی تنوع کو جرم قرار دینے کی شقیں شامل کی گئی ہیں، جس سے اختلافِ رائے اور آزاد سوچ کے لیے گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
یوریشیا کے مطابق نئے قوانین میں خواتین کی خود مختاری کو مزید محدود کیا گیا ہے، جبکہ بعض شقوں کو گھریلو تشدد کے جواز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات افغان معاشرے میں عدم مساوات اور خوف کے ماحول کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ عوامی تحفظ کے بجائے اقتدار کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے، جو انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور مذہبی و سماجی انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے قوانین افغانستان میں سماجی اور طبقاتی ناانصافی کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔