بنگلہ دیش نتخابات میں بی این پی اتحاد کو واضح برتری، 212 نشستوں پر کامیاب

بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں جمعرات کو منعقد ہونے والے تاریخی عام انتخابات کے بعد مرحوم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان کی جماعت بی این پی نے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے آئندہ حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا ہے۔

بنگلہ دیشی نیوز چینل جامونا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے 212 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اتحاد، جس کی قیادت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کر رہی ہے، 70 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

تاحال حتمی اور سرکاری نتائج بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

نتائج کے مطابق جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیدوار 62 نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں، جب کہ نیشنل سٹیزن پارٹی کو 4 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں 3 آزاد امیدوار بھی کامیابی کے بعد پارلیمان تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

رپورٹس کے مطابق پارلیمان کی 300ویں نشست پر ووٹنگ منسوخ کردی گئی تھی، کیونکہ اس حلقے کے ایک امیدوار کا حال ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ اس وجہ سے اس مخصوص نشست پر پولنگ کا عمل مکمل نہ ہوسکا۔

تاہم مختلف حلقوں کے جزوی غیر سرکاری نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ صبح 3:50 بجے تک مجموعی ٹرن آؤٹ کا باضابطہ اعلان بھی نہیں کیا گیا تھا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان اور سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے اپنی اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

طارق رحمان، جو 17 سال بعد برطانیہ سے وطن واپس آئے، ڈھاکہ-17 اور بوگرا-6 دونوں نشستوں سے کامیاب ہوئے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت انتخابات کے نتائج کا احترام کرے گی، چاہے وہ جیسے بھی ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کی جماعت کو شکست ہوتی ہے تو وہ رکاوٹ ڈالنے والی یا محاذ آرائی پر مبنی “اپوزیشن کی سیاست” میں حصہ نہیں لے گی۔

300 رکنی قومی اسمبلی کے 299 حلقوں میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا۔ سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 151 نشستیں درکار ہوں گی۔

موجودہ نتائج کے تناظر میں بی این پی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے اسے مزید حمایت درکار ہوگی۔

Similar Posts