رائٹرز کے مطابق یہ اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں ہوگا، جس میں کم از کم 20 ممالک کے وفود شریک ہوں گے۔ بورڈ آف پیس کا قیام جنوری میں عمل میں آیا تھا اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی توثیق بھی حاصل ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے کثیر ارب ڈالر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا جائے گا، جس میں شریک ممالک مالی تعاون فراہم کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک نے رضاکارانہ طور پر مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔
اس منصوبے کے تحت ایک انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) بھی غزہ میں تعینات کی جائے گی، جس کے لیے متعدد ممالک ہزاروں فوجی فراہم کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس فورس کا مقصد جنگ کے بعد سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اعلان کیا ہے کہ اسرائیل بورڈ آف پیس میں شامل ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت حماس کو غیر مسلح کرنے پر زور دیا جائے گا۔ تاہم حماس نے اس شرط کو اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔
مجوزہ پلان میں کہا گیا ہے کہ جو ارکان ہتھیار ڈال کر پرامن بقائے باہمی پر آمادہ ہوں گے انہیں عام معافی دی جا سکتی ہے، جبکہ غزہ چھوڑنے کے خواہشمند افراد کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
اجلاس میں غزہ کی سول انتظامیہ سنبھالنے کے لیے قائم قومی کمیٹی کی پیش رفت، انسانی امداد اور پولیس نظام سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔