سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 روز میں نمٹانے کا فیصلہ

چیف جسٹس کی سربراہی میں کام کرنے والے لا اینڈ جسٹس کمیشن نے سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کرلیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں لا اینڈ جسٹس کمیشن کا 47واں اجلاس ہوا جس میں عدالتی امور پر غور کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق لا اینڈ جسٹس کمیشن نے سزائے موت، عمر قید کے مقدمات 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کیا جس کے تحت آئندہ سوا ماہ میں تمام کیسز کو نمٹایا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق انصاف سے محروم شہریوں کے لیے مفت قانونی مشورے کا جامع فریم ورک تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکریٹریٹ کو ہائی کورٹز اور بار کے تعاون سے عمل درآمد کی ہدایت بھی کی گئی۔

اجلاس میں ایکسیس ٹو جسٹس فنڈ کے ذریعے فنڈنگ کے امکانات پر غور کیا گیا جبکہ خاندانی قوانین، کریمنل پروسیجر اور ای فائلنگ سمیت دیگر اصلاحات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس میں انکلوسیو اور ریسپانسیو قانون سازی کے عزم کے ساتھ عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کی توثیق کی گئی۔

اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی قیادت میں اکتوبر 2024 سے فوجداری مقدمات کی مجموعی زیر التوا تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 9 تا 14 فروری 2026 کے دوران سپریم کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 354 فوجداری مقدمات نمٹائے، اسی ہفتے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 131 نئے مقدمات دائر ہوئے۔

اعلامیہ کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر نمٹائے گئے مقدمات کی شرح دائر ہونے والے مقدمات سے تقریباً 270 فیصد سے زیادہ رہی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنوری 2026 تک کے تمام زیر التوا سزائے موت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق مخصوص بینچز، اصلاحاتی گروپس اور عدالتی ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت اہداف کے حصول کے لیے سرگرم ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان نے زیر سماعت قیدیوں سے متعلق جیل پٹیشنز کو منظم اور تیز رفتار انداز اپناتے ہوئے نمٹانے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جیل پٹیشنز کی دائر درخواست کے فیصلے تک واضح اور قابلِ پیش گوئی ٹائم لائن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا اس کے علاوہ فوجداری مقدمات میں جمود کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

Similar Posts