امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں پائیدار امن لانے والے پہلے شخص ہوں گے، غزہ کے لیے امریکا 10 ارب ڈالر دے گا، انھوں نے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی۔
واشنگٹن میں غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ میں پائیدار امن کے لیے پرعزم ہیں اورغزہ کے عوام کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ تعمیر نو کے لیے سات ارب ڈالر سے زیادہ دیے جا چکے ہیں۔ امریکا دس ارب ڈالر دے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ فیفا غزہ میں منصوبوں کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر جمع کرنے میں مدد دے گا۔ تعمر نو اور غزہ میں استحکام کے لیے مختلف ملک اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پائیدار امن کے لیے غزہ امن بورڈ اہم فورم ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دنیا میں امن سے زیادہ کوئی اور چیز اہم نہیں ہے، پائیدار امن کےلیے غزہ پیس بورڈ اہم فورم ہے، غزہ پیس بورڈ میں دنیا کے اہم ممالک شامل ہوئے ہیں، اپنے اہداف اور اہمیت کے حوالے سے پیس بورڈ کا کوئی متبادل نہیں، ہم غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران ان کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو بہت پسند کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو عظیم شخصیت اور فائٹر قرار دیتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے خطاب میں کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 11 جیٹ طیارے گرے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو واضح پیغام دیا کہ اگر جنگ نہ رکی تو بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں کو تجارت بڑھانے کی پیشکش کی۔ ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ ایک اچھی تجارتی ڈیل طے پائی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہترین قرار دیا۔ امریکی صدرنے کہا کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے جو خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
واضح رہے کہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف، رکن ممالک انڈونیشیا، آذربائیجان، قازقستان کے صدور، اردن کے شاہ عبداللہ، نائب امریکی صدرجے وینس، سعودی عرب اور ترک وزیرخارجہ بھی شریک ہیں۔
اجلاس شروع ہونے سے پہلے صدر ٹرمپ کے ساتھ عالمی سربراہان کا گروپ فوٹو ہوا۔ امریکی صدرنے امن بورڈ کے شرکا سے گفتگو بھی کی۔