بنگلہ دیشی انتخابات میں دوسری بڑی کامیابی جماعت اسلامی کی زیر قیادت سیاسی اتحاد نے 77 نشستوں کے ساتھ حاصل کی جب کہ گزشتہ سال شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے ذریعے ان کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے نوجوان طلبا کی قائم کردہ نوزائیدہ سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے 6 نشستیں جیتیں۔ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پابندی لگنے کے باعث انتخابات میں حصہ نہ لے سکی۔ بی این پی کی کامیابی پر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے طارق رحمن کو نہ صرف مبارک باد دی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کرتے ہوئے انھیں دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔
بنگلہ دیش اور پاکستان کبھی ایک ہی ملک ہوا کرتے تھے، 1971 کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں ہمارا مشرقی بازو کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ سقوط بنگال کے سانحے میں جہاں درون خانہ صاحبان اقتدار کی کوتاہیاں، غلط فیصلے، لسانی نفرتیں اور سیاسی چپقلش نے منفی اثرات مرتب کیے تو دوسری جانب بھارت نے بھی موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی پاکستان کے عاقبت نااندیش سیاست دانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر مشرقی پاکستان میں مداخلت کرکے علیحدگی پسندوں کی تحریک کو ہوا دے کر سقوط ڈھاکا کی راہ ہموار کی۔
بعدازاں بھارتی قیادت نے بنگلہ دیش میں آہستہ آہستہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو بھرپور تعاون فراہم کرتے ہوئے اس کے اقتدار کو مضبوط اور طول دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بنگلہ دیش کے عوام بالخصوص نوجوان طبقہ بھارتی مداخلت کاری کو اپنی آزادی، سلامتی اور خود مختاری کے منافی سمجھتے تھے۔ اگرچہ 1971 کے بعد عوامی سطح پر بنگالی عوام میں پاکستان کے ساتھ ہم دردی اور خیر سگالی کے جذبات میں جوش و جذبہ خاصا کم ہو چکا تھا لیکن بھارتی رویوں کے باعث رفتہ رفتہ صورت حال تبدیل ہوتی گئی۔
گزشتہ سال بنگلہ دیشی نوجوانوں نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف اپنے غصے کے اظہار کو احتجاج کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔ نتیجتاً شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا۔ ایک دور ایسا بھی آیا جب شیخ حسینہ واجد نے بہ طور وزیر اعظم بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی رخصتی کے محض ایک سال بعد جب آئی سی سی نے T-20 ورلڈ کپ سے بنگلہ دیشی ٹیم کو آؤٹ کیا تو پاکستان نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے بنگلہ دیش کا ساتھ دیا اور بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا اور آئی سی سی کو آگاہ کر دیا کہ بنگلہ دیش کی T-20 میں شمولیت تک پاکستان بھارت کے ساتھ میچ نہیں کھیلے گا۔
مجبوراً آئی سی سی کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور بنگلہ دیش T-20 ورلڈ کپ کا حصہ بن گیا۔ پاکستان کے اس جرأت مندانہ فیصلے نے بنگلہ دیش کے عوام کے دلوں میں پاکستان کی محبت کو مہمیز کر دیا یہ الگ بات ہے کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم بھارت کے خلاف جیت کا جمود توڑنے میں ایک بار پھر ناکام ہو گئی لیکن پاکستان نے بنگلہ دیش کی عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ 55 سال کی دوریوں اور فاصلوں کو ختم کرنے میں ابھی وقت درکار ہے لیکن دونوں ملکوں کے سیاستدانوں و حکمرانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہل فکر و دانش کو دونوں ملکوں کے درمیان جنم لینے والی تازہ محبتوں و قربتوں کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
بنگلہ دیش کے انتخابات میں پاکستان کے ارباب اقتدار، صاحب اختیار اور اہل سیاست کے لیے غور و فکر کا بڑا سامان موجود ہے۔ انتخابی نتائج کو بی این پی اور جماعت اسلامی نے کھلے دل سے تسلیم کیا اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی، نہ کسی ریاستی ادارے نے الیکشن میں مداخلت کی اور نہ ہی کسی جماعت نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور نہ ہی فارم 47 کا شور بلند ہوا۔
نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمن نے کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ ظاہر کیا۔ جب کہ ہماری بیمار سیاست میں یہ سب کچھ جائز اور ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص صاحبان اقتدار اپوزیشن کا ناطقہ بند کر دینے کے سارے جتن آزمانے میں ہی راحت و سکون محسوس کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں و نارسائیوں کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ نفرت، بدلہ اور انتقام کو ’’ مکافات عمل‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
درگزر اور اعلیٰ ظرفی کا ہماری بیمار سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کل پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تو (ن) لیگ اور پی پی پی کے لوگ جیلوں میں تھے اور نارسائیوں کے گلے شکوے تھے، آج دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت جیل میں ہے۔ بانی پی ٹی آئی بیماری چشم میں مبتلا ہیں۔ پی ٹی آئی کو نارسائیوں کے شکوے ہیں جب کہ حکومت مکمل تعاون اور طبی سہولیات کی فراہمی کی دعویدار ہے۔ پاکستان کی بیمار سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رنجشوں کی داستان 77 سالوں پر محیط ہے، جانے کب اور کون ازالہ کرے گا؟