رمضان شریف: موبائل فون کو ایک طرف رکھ دیجئے !

یہ ڈیجیٹل دَور ہے ۔ چاہتے ہُوئے بھی ہم اِس ڈیجیٹائزیشن سے نجات حاصل نہیں کر سکتے ۔ اگر ہم ڈیجیٹل دَور سے ہم آہنگ نہیں ہوتے تو قدم قدم پر احساسِ محرومی جان کو اٹک جاتا ہے ۔ ہمارے بچے جس تیزی اور مہارت سے موبائل فون اور کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں ، اُنہیں دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ’’جنریشن گیپ ‘‘ کسے کہتے ہیں ۔

موبائل فون ہماری ڈیجیٹل زندگی کا جزوِ ناگزیر بن چکا ہے ۔ غریب ہو یا امیر،ہر گھر میں جتنے افراد ہیں ، سب کے ہاتھ میں موبائل فون تھما ہے ۔ اچھا لگے یا بُرا، خاتونِ خانہ باورچی خانہ میں ہانڈی بھی پکاتی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ موبائل فون پر رشتہ داروں اور سہیلیوں سے گپ شپ بھی کرتی دکھائی اور سنائی دیتی ہیں ۔ہاتھ میں فون نہ بھی تھما ہو ، اسے آن کرکے باورچی خانے ہی میں کسی جگہ اٹکا دیا جاتا ہے اور من پسند ڈرامہ دیکھا جاتا ہے ۔ باورچی خانے میں چاہے ہانڈی جَل جائے ، مگر خاتونِ خانہ کی توجہ موبائل فون سے نہیں ہٹتی ۔ یہ تقریباً ہم سب کے گھروں کا ’’مشترکہ کلچرل منظر‘‘ بن چکا ہے ۔

موبائل فون جدید دَور کا لازمہ بن گیاہے ۔ اِس سے شائد کوئی مفر ہی نہیں ۔ ہمارے گھر کے سامنے مسجد ہے ۔ جب بھی اللہ کی توفیق سے باجماعت نماز ادا کرنے مسجد جاتا ہُوں ، کئی بار دورانِ نماز کئی نمازیوں کے موبائل فون کی گھنٹی بجتی سنائی دیتی ہے ۔ نماز میں واضح طور پر خلل بھی پڑتا ہے اور توجہ بھی بَٹ جاتی ہے ۔ کئی بار امام مسجد ، جماعت کھڑی ہونے سے قبل،یہ کہتے ہُوئے سنائی دیے ہیں:’’ مہربانی فرما کر موبائل فون کی گھنٹی بند کر دیجئے ۔‘‘ پہلے پہل امام صاحب یہ کہتے سنائی دیا کرتے تھے :’’ برادران، مسجد میں موبائل فون مت لایا کیجئے ۔‘‘ اب نوبت صرف گھنٹی بند کرنے تک آکر رُک گئی ہے ۔

پھر بھی کئی نمازی گھنٹی بند کرنا بھول جاتے ہیں۔ اِسی سے ا ندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ موبائل فون ہماری جان کو کس طرح چمٹ گیا ہے ۔ ایک بلا کی طرح!بچوں کی زندگیاں تو ویسے بھی اِس ’’بلا‘‘ نے ہلکان کر دی ہیں ۔ اِس کے اثراتِ بَد سے کوئی محفوظ نہیں ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی ممالک ( جنھوں نے موبائل فون کی بلا ایجاد کی ہے ) قوانین وضع کرہے ہیں کہ ’’سترہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ کاش، اِس طرح کی قانون سازی ہمارے ہاں بھی کر دی جائے ۔میرا دو سالہ پوتا بھی صبح آنکھ کھولتے ہی، اپنی توتلی زبان یا اشاروں میں، ٹی وی یا موبائل فون دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے ۔ کارٹون دیکھنے کے لیے !

اب الحمد للہ ہماری زندگیوں میں ایک بار پھر رمضان المبارک آ چکا ہے ۔ 2026 کا رمضان شریف۔آج ماشاء اللہ دوسرا روزہ ہے۔ عالمِ اسلام کے ساتھ ساتھ ساری معلوم دُنیا میں ماہِ رمضان المبارک کی گونج اور بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ غیر مسلم بھی روزہ دار مسلمانوں کا احترام کرتے دکھائی دیتے ہیں اور بڑی حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح پورا مہینہ یہ مسلمان 12سے زائد گھنٹے بغیر کچھ کھائے پیئے گزار دیتے ہیں ۔رمضان شریف کے ایام میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا نیکیوں کی طرف رجحان بڑھ گیا ہے اور بدیوں سے اجتناب میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ اگرچہ روزوں کے دوران اسراف میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ۔

یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں دُنیا جہان کی ہر مرغن اور لذیذ شئے دسترخوان پر ہونی چاہیے ۔ حالانکہ یہ خواہش اور اہتمام دراصل روزے کی رُوح کے منافی ہے ۔ مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ لاتعداد ایسے روزہ دار ہیں جو روزے کے دوران نماز و نوافل ادا کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے کی بجائے موبائل کی اسکرین پر وقت گزاری کرتے ہیں ۔

 اور موبائل فون کی اسکرین پر جو کچھ نمودار ہوتا ہے ، وہ اکثر روزے کی رُوح کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے ؛ چنانچہ رمضان شریف میں کوشش ہونی چاہیے کہ اِس موبائل فون کی ’’لعنت‘‘ سے کچھ گھنٹوں کے لیے ہی سہی، نجات حاصل کرلیں ۔یہ ’’نجات ‘‘ مگر کیسے حاصل کی جائے ، اِس کی ایک تدبیر مجھے اگلے روز ایک دینی جریدے میں نظر آئی ہے ۔ اِس جریدے کا نام ’’ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ‘‘ ہے ۔لاہور سے شائع ہوتا ہے ۔ اِس جریدے کے فروری2026کے شمارے میں مجھے جناب رضی ولی محمد کا لکھا گیا ایک دلکشا آرٹیکل پڑھنے کو ملا ہے ۔ اِس آرٹیکل کا عنوان ہی ’’ ڈیجیٹل رمضان‘‘ ہے ۔

میں چاہتا ہُوں کہ روزے کو تقویت دینے والے اِس آرٹیکل کے کچھ اقتباسات اپنے معزز و محترم قارئین کے سامنے رکھوں :کہ رمضان شریف میں موبائل فون کو ایک طرف رکھتے ہُوئے ہم کیسے رمضان کی مبارک و مسعود گھڑیوں سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔ اِس کے لیے مضمون نگار ( رضی ولی محمد صاحب) نے کچھ تجاویز دی ہیں ، جو یوں ہیں :

’’رمضان میں روزہ رکھ کر جس طرح بارہ سے چودہ گھنٹے ہم اللہ کی خوشنودی کیلیے کھانے پینے، اور جنسی خواہشات سے دُور رہتے ہُوئے روزہ دار کہلاتے ہیں، بالکل اسی طرح ڈیجیٹل روزہ بھی رکھیں اور روزانہ چند گھنٹے موبائل کو مکمل طور پر بند کردیں، گویا کہ اس کا آپ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یاد رکھیے روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں ہے ،بلکہ دراصل روزہ اپنی خواہشاتِ نفس کو ربّ العزت کے احکام کے تابع کرنے کی تربیت و جدوجہد کا نام ہے۔ ضرورت پڑنے پر موبائل کا استعمال صرف مخصوص اوقات میں کریں۔

سحری، افطار اور نمازوں کے اوقات میں قطعاً اس کے قریب نہیں جائیں، یا اس کو اپنے قریب نہ لائیں۔ ٹیلی وژن کا پورے رمضان روزہ رکھوائیں اور مکمل طور پر بند رکھیں اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم افطار سے تراویح ختم ہونے تک اور پھر سحر میں قطعی نہ کھولیں۔ اس طرح گناہوں کے آگے روزہ جیسی ڈھال معصیت کے سوراخ ہونے سے بچ سکے گی۔

’’اپنے موبائل کو آپ اللہ کے دین کے فروغ کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں جس میں معروف کا حکم ہو اور نواہی سے روک ہو۔ موبائل میں قرآن کی تفاسیر اور احادیث کے مجموعوں کی ایپس ڈاؤن لوڈ کرلیجیے اور ان سے استفادہ کی کوشش کیجیے۔ موبائل پر آن لائن درُوس سننے کا اہتمام کریں اور خصوصاً تراویح کے خلاصہ کی کوئی آن لائن کلاس جوائن کرلیں یا کم از کم یو ٹیوب پر موجود کسی بھی عالم دین یا مقرر کے خلاصہ تراویح کو دیکھنے اور سننے کا اہتمام کریں۔ بہتر ہو کہ اس پروگرام میں تمام گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر شرکت کریں۔ اس طرح رمضان المبارک میں مکمل قرآن کا پیغام سمجھ سکیں گے۔

اور جب بات سمجھ آجائے تو عمل آسان ہوجاتا ہے۔ تصحیحِ تلاوت کے لیے کسی منتخب قاری کی ترتیل کے ساتھ تلاوت سنیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دُہرائیں۔ اس طرح آپ کے قرآن پڑھنے کے تلفظ کی درستی ہوسکے گی۔ مختصر احادیثِ مبارکہ اور قرآنی و مسنون دُعاؤں اور ان کے ترجمہ و مفہوم سے متعلق کوئی ایپ اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرلیں اور جب بھی موقع ملے اس میں سے دیکھ کر اس حدیث اور دُعا کو چلتے پھرتے حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح رمضان المبارک کے اختتام پر احادیث اور قرآنی و مسنون دُعاؤں کی بڑی تعداد آپ کو یاد ہوجائے گی جو آپ کو تزکیہ نفس اور اصولِ تقویٰ میں ممد و معاون ہوں گی۔

’’ایسی معتبر اسلامی ویب سائٹس وزٹ کریں جن پر اسلامی سوال و جواب کے پروگرامات پیش کیے جاتے ہوں۔ ا س سے آپ کے دینی علم میں اضافہ ہوگا اور کئی اُلجھی ہوئی گتھیاں سلجھیں گی، جو اطمینانِ قلب کا سبب بنے گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اہلِ اسلام کو رمضان شریف کی جملہ برکات سمیٹنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے ۔آمین ۔

Similar Posts