قومی کھیل کو تباہ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ، فیڈریشن سے متعلق اہم انکشافات

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت بین الصوبائی رابطہ کی رکن سیدہ شہلا رضا اور ہاکی کے مایہ ناز اولمپئینز نے قومی کھیل ہاکی کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے عناصر کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ قومی کھیل  کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے  عناصر کے خلاف شفاف انداز میں تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور قومی خزانے کی لوٹ مار کرنے والے ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔

مقررین نے کہا کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفادات کو اہمیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کا بھرپور احتساب کیا جائے،سچے اور حقیقی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر قومی ہاکی فیڈریشن کے فوری انتخابات کرائے جائیں، راست اقدامات کی صورت میں پاکستان عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔

پریس کانفرنس میں شہلا رضا، اولمپینز سمیع اللہ خان، کلیم اللہ خان، حنیف خان، ناصر علی، ایاز محمود، وسیم فیروز، افتخار سید ،پی ایچ ایف کے سابق سیکریٹری حیدر حسین اور دیگر شریک تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہاکی کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، کھلاڑیوں کے ناموں پر ویزے حاصل کرنے والوں کی سرکوبی کی جائے، مردوں کی ہاکی ٹیموں میں خواتین کو ساتھ لے جانے والے افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کا خزانہ لوٹنے والوں کابلا امتیاز احتساب ضروری ہے،ایسے عناصر کو سیاسی دباؤ کی بنیاد پر استثنیٰ ملنا قوم کے ساتھ مذاق ہوگا۔

 شہلا رضا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قومی کھیل ہاکی کے معاملات پر فوری نوٹس لیتے ہوئے نااہل عہدے داران پاکستان ہاکی فیڈریشن کو برطرف کیا اور پاکستان ہاکی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا میں ہونے والی شدید بد انتظامی اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے کی جانے والی سنگین مالی بے ضابطگیوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے والے پی ایچ ایف کے نام نہاد عہدے داران کو گھروں کو بھیج دیا۔

انہوں نے کہا کہ پرو لیگ کے لیے خطیر رقم دینے کے باوجود پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے بدترین انتظامات کرنے پر برطرف  فیڈریشن ذمہ دار ہے، فیڈریشن سے مفادات کے لیے چمٹے عناصر نے ہمیشہ فنڈز کی کمی کا رونا رویا اور اسی اڑ میں فائدے اٹھاتے رہے لیکن اس مرتبہ  بیچ چوراہے میں یہ ہنڈیا پھوٹ گئی، اس تباہی کی ذمہ دار طارق بگٹی اور رانا مجاہد ہیں۔

شہلا رضا نے کہا کہ طارق مسوری نے صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا عہدہ سنبھالنے کے بعد  انتظامی بے ضابطگیوں کے ریکارڈ توڑ دیے،بدقسمتی سے پاکستان میں کھیلوں کی تنظیموں کی مافیاز کو سیاسی اشرباد حاصل رہی ہے، ساوتھ ایشین گیمز میں حق رائے دہی استعمال کرنے والے حیدر حسین کی جگہ بدعنوانی میں ملوث رانا مجاہد کو سیکرٹری جنرل پی ایچ ایف تسلیم کرلیا گیا۔

’’ طارق مسوری نے عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم پاکستان کی جانب سے  ملنے والے ٹاسک کے مطابق فیڈریشن کے انتخابات نہ کرائے، خود اقتدار سے چمٹے رہے  اور مالی ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے کی بجائے ملوث عناصر کے ساتھ مل کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا‘‘۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی طرح پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کردار بھی مشکوک نظر آتا ہے، مبینہ طور پر ایف ائی ایچ کے صدر طیب اکرام بھی ان سازشوں کا حصہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) یاسر پیرزادہ نے وزیراعظم پاکستان کے احکامات کو نظر انداز کیا، شہباز سینیئر سندھ بینک سکینڈل میں پی ایچ ایف کے خفیہ اکاؤنٹ کو چلاتے رہے۔

’’حالیہ دورہ آسٹریلیا میں ان کو بطور سپیشل آبزرور بنا کر بھیجا گیا،حکومت پاکستان کھیلوں کے لیے کے لیے زہر قاتل عناصر کے خلاف تحقیقات کرائے جامع تحقیقات کرائے اور ذمہ داران کو سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ قومی کھیل کو مافیا سے پاک کر کے میرٹ، شفافیت اور احتساب کی بنیاد پر آگے بڑھایا جاسکے‘‘۔

اُن کا مزید کہان تھا کہ اب وقت اگیا ہے کہ قومی کھیل ہاکی کو سدھارا جائے ورنہ پاکستان میں ہاکی کا نام وہ نشان تک نہیں رہے گا۔

Similar Posts