ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے میں بھارت کو جمعرات کے روز چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم، چیپوک میں زمبابوے کے خلاف ایک اہم میچ کھیلنا ہے تاہم سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے بھارت کی نئی چال سامنے آگئی۔
جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 76 رنز کی بھاری شکست کے بعد سوریہ کمار یادیو اینڈ کمپنی کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں انتہائی نازک صورتحال اختیار کرچکی ہیں۔
بھارت کو نہ صرف زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے باقی دونوں میچز جیتنا ہوں گے بلکہ دیگر نتائج بھی اپنے حق میں آنے کی دعا کرنا ہوگی۔ مجموعی طور پر اب بھارتی ٹیم کسی بھی قسم کی لغزش کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
یہ مقابلہ چیپوک میں رات کے وقت کھیلا جائے گا۔ اس دوران گراؤنڈ میں دوسری اننگز کے دوران خاصی اوس پڑتی ہے، جس کے باعث بیٹنگ نسبتاً آسان جبکہ بولنگ مشکل ہوجاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں گیند بازوں کو گیند پر گرفت برقرار رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق میچ میں برابری برقرار رکھنے کے لیے چیپوک اسٹیڈیم میں پہلی بار ایک نیا درآمد شدہ کیمیکل ’ڈیو کیور‘ استعمال کیا جارہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ کیمیکل امریکا سے منگوایا گیا ہے۔
’ڈیو کیور‘ کو منگل اور بدھ کے روز میدان پر اسپرے کیا گیا، جبکہ جمعرات کی سہ پہر بھی اس کا استعمال دہرانے کا منصوبہ ہے تاکہ بھارت اور زمبابوے کے درمیان رات کے میچ میں اوس کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔
میچ کے دوران نمی کا تناسب 80 سے 90 فیصد کے درمیان رہنے کی پیشگوئی ہے، جس کے باعث دوسری اننگز کے نصف حصے تک آؤٹ فیلڈ ہموار اور گیند نم ہوسکتی ہے۔
روایتی طور پر چیپوک کی وکٹ اسپنرز کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے۔ یہاں گیند گرفت حاصل کرتی ہے، ٹرن لیتی ہے اور بیٹنگ کے لیے صبر آزما حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ تاہم جب گھاس پر نمی جم جاتی ہے اور سفید گیند پھسلنے لگتی ہے تو اسپنرز کو حاصل برتری کم ہوجاتی ہے۔ لینتھ بالز تیزی سے بلے پر آتی ہیں، غلط وقت پر کھیلے گئے شاٹس بھی دور تک چلے جاتے ہیں اور گیند بازوں کے لیے غلطی کی گنجائش کم جبکہ بلے بازوں کے لیے آسانی بڑھ جاتی ہے۔
ایسی صورتحال میں ٹاس کی اہمیت رسمی کارروائی سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہے۔ چنئی میں فلڈ لائٹس کے نیچے جب زیادہ اوس متوقع ہو تو کپتان عموماً ہدف کے تعاقب کو ترجیح دیتے ہیں۔ گیلی گیند کے ساتھ ہدف کا دفاع کرنا ایک بالکل مختلف مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔ گرفت غیر یقینی ہوجاتی ہے، سلوئر گیندوں کی کاٹ کم ہوجاتی ہے اور یارکر درست انداز میں کرانا مشکل ہوجاتا ہے۔
بھارت اور زمبابوے دونوں اپنے اپنے سپر ایٹ مقابلوں میں شکست کے بعد چیپوک پہنچے ہیں۔ دفاعی چیمپئن بھارت کو جنوبی افریقہ نے بری طرح زیر کیا تھا۔ دوسری جانب زمبابوے کو ویسٹ انڈیز کے خلاف 107 رنز کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں کمزوریاں واضح ہوکر سامنے آئی تھیں۔