طاقت، مزاحمت اور بدلتا عالمی منظرنامہ

0 minutes, 0 seconds Read
اسرائیل اور امریکا کی جانب سے مشترکہ حملے کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی حملے جاری ہیں، تاہم اسرائیل کے تازہ ترین حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔ایران کے سرکاری میڈیا نے اس شہادت کی تصدیق کردی ہے۔ شہادت کے وقت سپریم لیڈر اپنے دفتر میں موجود تھے، حملے میں سپریم لیڈر کی بہو، بیٹی، داماد اور نواسی بھی شہید ہوگئے ہیں۔ ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ ملک میں سات روز کے لیے چھٹی کا بھی اعلان کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوابی ردعمل کی صورت میں سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ بہتر ہوگا ایران ایسا نہ کرے لیکن اگر انھوں نے ایسا کیا تو ہم ایسی طاقت سے جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘‘ جب کہ دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔ اجلاس کے دوران انتونیو گوتریس نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے خبردارکیا کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پرکھڑی ہے جہاں ایک لمحہ صدیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاست کے اعصاب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی فضا سوگوار ہے، مساجد میں دعائیں اور سڑکوں پر عوامکی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ یہ سانحہ محض ایک سیاسی اور عسکری سانحہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی صدمہ بھی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس سانحے کے اثرات کس حد تک پھیلیں گے اور آنے والا منظرنامہ کیسا ہوگا۔

ایران کی ریاستی ساخت میں سپریم لیڈر محض ایک آئینی منصب نہیں بلکہ نظریاتی محور ہیں۔ 1979 کے انقلاب کے بعد تشکیل پانے والے نظام میں رہبراعلیٰ ہی اقتدار و اختیار کا محور ہے ۔ اس تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی شہادت کو ایران کی خود مختاری اور نظریاتی تشخص پر حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ حملے کے فوراً بعد اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے خطے میں موجود درجنوں امریکی اڈوں اور اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور میزائل و ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ اعلان صرف عسکری ردعمل نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو چیلنج کرنے کا پیغام ہے۔

پاسدارانِ انقلاب گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ایسی قوت بن چکے ہیں جو نہ صرف ایران کی سرحدوں کے اندر بلکہ شام، عراق، لبنان اور یمن میں بھی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ ان کی حکمت عملی روایتی جنگ تک محدود نہیں بلکہ غیر روایتی، پراکسی اور سائبر محاذوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس لیے موجودہ بحران کو صرف دو ریاستوں کے درمیان براہِ راست تصادم کے طور پر دیکھنا حقیقت کو محدود کرنا ہوگا۔

واشنگٹن میں اس واقعے کو ایک اسٹرٹیجک ضرورت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کو سخت تنبیہ کی کہ کسی بھی شدید ردعمل کی صورت میں امریکا’’ایسی طاقت ‘‘ استعمال کرے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہ بیان سفارتی توازن سے زیادہ عسکری برتری کے اظہارکی کوشش ہے۔ تاہم امریکی پالیسی ساز اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ نہ صرف امریکی افواج بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد امریکی عوام ایک نئی طویل جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں دکھائی دیتے۔

 تل ابیب میں بعض حلقے اسے ایران کے علاقائی نیٹ ورک کوکمزور کرنے کی پیشگی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ قیادت کو نشانہ بنانے سے نظریاتی تحریکیں ختم نہیں ہوتیں، بعض اوقات وہ مزید شدت اختیارکرلیتی ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی تحریک اور عراق میں مختلف ملیشیائیں اس واقعے کو اپنے بیانیے میں شامل کر کے مزاحمت کو نئی توانائی دے سکتی ہیں، اگر یہ تمام محاذ بیک وقت فعال ہوئے تو اسرائیل کو شمال، جنوب اور مشرق سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی سطح پر بھی بے چینی عیاں ہے۔

انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اور طاقت کا استعمال عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہنگامی اجلاس جاری ہے جہاں عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے مؤقف سے متصادم ہیں۔ روس اور چین جیسے ممالک ممکنہ طور پر ایران کے حق میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، جب کہ مغربی طاقتیں اسرائیل کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ تقسیم اگر گہری ہوئی تو عالمی نظام ایک نئے سرد محاذ آرائی کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔

اقتصادی اثرات بھی کم سنگین نہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل عالمی معیشت کی شہ رگ ہے، اگر ایران نے اس راستے پر دباؤ بڑھایا یا جہاز رانی کو خطرہ لاحق ہوا تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ یورپ پہلے ہی توانائی کے بحران کا سامنا کر چکا ہے اور ایشیائی معیشتیں بھی درآمدی توانائی پر انحصار کرتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عالمی افراطِ زرکو بڑھا سکتا ہے اور ترقی پذیر ممالک کو شدید مالی دباؤ میں ڈال سکتا ہے۔ اس طرح ایک علاقائی جنگ عالمی کساد بازاری کو جنم دے سکتی ہے۔

 ایران کی نئی قیادت زیادہ سخت گیر مؤقف اختیار کر سکتی ہے تاکہ داخلی اتحاد برقرار رکھا جا سکے۔ بیرونی حملے اکثر قوموں میں دفاعی قوم پرستی کو تقویت دیتے ہیں، اور اصلاح پسند آوازیں وقتی طور پر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ تاہم ایران کی نوجوان نسل، جو معاشی مواقع اور عالمی روابط کی خواہاں ہے، مستقبل میں داخلی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

جوہری پروگرام اس بحران کا مرکزی پہلو بن سکتا ہے، اگر ایران یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کی سلامتی کی ضمانت صرف مضبوط دفاعی صلاحیت میں ہے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کو مزید تیزکرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں مغرب کے ساتھ کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگی۔ پابندیاں سخت ہوں گی، سفارتی راستے محدود ہوں گے اور عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندی واضح ہو جائے گی۔ یہ صورت حال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے بھی چیلنج ہوگی۔

عوامی سطح پر دنیا بھر میں احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ یہ معاملہ ریاستوں کی حدود سے نکل چکا ہے۔ مسلم دنیا میں اسے مذہبی اور نظریاتی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جب کہ مغربی معاشروں میں رائے منقسم ہے۔ سوشل میڈیا پر بیانیوں کی جنگ جاری ہے جہاں ہر فریق اپنی اخلاقی برتری ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اطلاعاتی جنگ اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ عوامی رائے سفارتی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ممکنہ منظرنامے متنوع اور پیچیدہ ہیں۔ پہلا منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ شدید مگر محدود جھڑپوں کے بعد پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کر دی جائے۔ یورپی یونین یا علاقائی طاقتیں ثالثی کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دوسرا منظرنامہ ایک طویل المدتی کم شدت کی جنگ کا ہے جس میں براہِ راست تصادم کم مگر پراکسی حملے زیادہ ہوں۔ تیسرا اور خطرناک ترین منظرنامہ کھلی علاقائی جنگ ہے جس میں متعدد ممالک براہِ راست شامل ہوں اور عالمی طاقتیں مختلف بلاکس میں تقسیم ہو جائیں۔ ایسی صورت میں عالمی نظام ایک نئے غیر مستحکم دور میں داخل ہوگا۔طویل المدتی طور پر یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے، اگر ایران داخلی طور پر مستحکم رہتا ہے اور اس کے اتحادی منظم رہتے ہیں تو ایک نیا مزاحمتی بلاک مضبوط ہو سکتا ہے، اگر داخلی انتشار بڑھتا ہے تو طاقت کا خلا پیدا ہوگا جسے دیگر قوتیں پُر کرنے کی کوشش کریں گی۔ دونوں صورتوں میں غیر یقینی کیفیت برقرار رہے گی۔

آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا طاقت کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں یا سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان مگر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے ایران کیسے آگے بڑھے گا؟ نیا عہد کیسا ہوگا، اس کا انحصار عالمی قیادت کے فیصلوں پر ہے،اور ایران قیادت کے لائحہ عمل پر ہوگا۔ ایرانی قیادت دکھ کی گھڑی سے گزر رہی ہے، ایران میں جو کچھ ہوا ہے، اس پر جذبات کا بھڑکنا فطری امر ہے۔ عالمی حالات سنگین ہوچکے ہیں۔ امریکا کی قیادت کو ہوش مندی اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جارحیت، دھونس اور دھاندلی کی روش انتقام کو جنم دیتی ہے۔ موجود سنگین حالات میں طاقت کے استعمال کے بجائے تدبر کو ترجیح دی گئی، مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا، تو شاید اس آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ بصورتِ دیگر یہ شعلے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں اور آنے والی نسلیں اس فیصلے کی قیمت ادا کریں گی۔

Similar Posts