غالب کے کلام میں تلمیحات کا استعمال محض ایک شعری روایت نہیں ہے بلکہ ان کے فلسفیانہ افکار اور معنی گہرائی کو بیان کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ غالب نے اپنی شاعری میں قدیم تاریخی، مذہبی اور اساطیری واقعات کو اس مہارت سے بیان کیا ہے کہ ایک مختصر اشارے سے معنی کی پوری کائنات روشن ہو جاتی ہے۔ غالب کی تلمیح نگاری میں معنی آفرینی اور فنی گرفت نمایاں ہے۔ مرزا کا کلام تو اک بحر ذخار ہے جس میں در نایاب نکالنا اور سمجھنا آسان نہیں، محاوروں، تشبیہوں، ترکیبوں، رمز وکنایہ اور تلمیحات کا استعمال جس طرح غالب نے کیا ہے، دوسروں کے ہاں ناپید ہے۔ غالب کے بعد تلمیحات کا استعمال اقبال نے کیا ہے اور بہت خوب کیا ہے۔
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر تصویر کا
ایران میں دستور تھا کہ بادشاہ یا حاکم وقت کے سامنے فریادی کاغذی لباس پہن کر آتے تھے جن کو دیکھتے ہی بادشاہ سمجھ جاتے تھے کہ یہ مظلوم ہے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جیسے خون آلود کپڑا بانس پہ لٹکانا تاکہ مظلومی فوراً ظاہر ہو جائے۔ کاغذی پیرہن کی تلمیح بے چارگی ظاہر کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ کنایتاً ہستیٔ مصمم کی طرف اشارہ ہے۔ ایرانی شعرا نے ’’کاغذی پیرہن‘‘ کی تلمیح کو بہت استعمال کیا ہے، غالب نے بھی وہیں سے لیا ہے۔
کیا کہا خضر نے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی
٭……٭
لازم نہیں کہ خضرکی ہم پیروی کریں
مانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے
٭……٭
تو سکندر ہے، مرا فخر ہے ملنا تیرا
گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے
غالب نے اپنے کلام میں سب سے زیادہ خضر اور سکندر کی تلمیحات کا استعمال کیا ہے۔ سکندر اور خضر کا نام ساتھ ساتھ لیا ہے، سکندر اعظم یونان کا رہنے والا تھا، ارسطو کا شاگرد تھا، مقدونیہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے کم عمری میں ہی آدھی سے زیادہ دنیا فتح کر لی تھی، سکندر کی لڑائی ایران کے بادشاہ دارا سے بھی ہوئی تھی جس میں اسے فتح نصیب ہوئی تھی۔ اس نے ہندوستان اور چین پر بھی حملے کیے اور کئی نئے شہر بھی بسائے۔ کہتے ہیں قوم یاجوج ماجوج نے زمین پر بڑی تباہی مچائی تھی۔ اس لیے سکندر نے ’’سد سکندری‘‘ تعمیر کروائی جس کے مسالے میں لوہے اور تانبے کی آمیزش کروائی تاکہ یاجوج ماجوج کے فتنے کو روکا جا سکے۔ حضرت خضر آب حیات پی کر امر ہو گئے۔ چشمہ آب حیات کو چشمہ زندگانی اور چشمہ آب حیوان بھی کہا جاتا ہے۔ ہندی دیومالا میں آب حیات کو ’’ امرت‘‘ کہا جاتا ہے جسے پی کر دیوتا امر ہو گئے۔ اسی تلمیح کے حوالے سے سکندر خوش قسمت آدمی کو کہا جاتا ہے۔ ایسا خوش نصیب انسان جس پر خدا مہربان ہو، ایک اور خوبصورت شعر خضر کے حوالے سے:
وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر
نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے
اس شعر میں غالب کہتے ہیں اب انسان کسے رہ نما کرے اور کس پر بھروسہ کرے۔
سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، ہر زنان مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہ کنعاں ہو گئیں
اس شعر میں حضرت یوسف ؑ اور زلیخا کی تلمیح استعمال کی گئی ہے، ’’ماہ کنعاں‘‘ حضرت یوسف کا لقب تھا۔ مرزا غالب نے اس حوالے سے کئی شعر کہے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اور حضرت یوسف ؑ کا قصہ قرآن پاک کی سورہ یوسف میں موجود ہے۔ حضرت یوسف ؑ لاثانی حسن کے مالک تھے، جب وہ مصر پہنچے تو زلیخا ان پر عاشق ہو گئی، لیکن حضرت یوسف ؑ نے کبھی اس کی ہمت افزائی نہیں کی۔ زلیخا کی اس معاملے میں بڑی ذلت و رسوائی ہوئی، مصر کی عورتوں کو معلوم ہوگیا کہ زلیخا حضرت یوسف ؑ پر دل رکھتی ہے اور جب زلیخا اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئی تو اس نے حضرت یوسف ؑ پر الزام بھی لگا دیا۔ شاہی خاندان اور امیران شہر کی عورتوں میں زلیخا ایک غلام کے عشق میں بہت بدنام ہو چکی تھی۔ چنانچہ اس نے ایک دن عمائدین شہر کی بیگمات اور دیگر معزز خواتین کو اپنے محل میں جمع کیا اور تمام خواتین کے ہاتھ میں ایک ایک لیموں اور ایک چھری دے دی اور ان سب سے کہا کہ جیسے ہی میں ایک شخص کو اندر بلاؤں، آپ لوگ اس لیموں کے دو ٹکڑے کر دینا۔ چنانچہ جوں ہی زلیخا نے حضرت یوسفؑ کو اندر بلایا تو تمام خواتین حضرت یوسفؑ کا حسن بے مثال اور ان کی دلکش شخصیت کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں اور بجائے لیموں کاٹنے کے اپنی انگلیاں زخمی کر لیں۔ مندرجہ بالا تلمیح اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
اس شعر میں غالب نے مصر کے بادشاہ نمرود کی طرف اشارہ کیا ہے جس طرح مصر کے بادشاہ فرعون، چین کے بادشاہ فغفور، روم کے شاہ قیصر، ایران کے بادشاہ کسریٰ کہلاتے تھے۔ اسی طرح عراق کے بادشاہ کا لقب ’’نمرود‘‘ تھا۔ کہتے ہیں نمرود نے اپنے باپ کو قتل کرکے بادشاہت پر قبضہ کیا تھا۔ اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ کے توحید کے پیغام کے بعد نمرود ان کا دشمن بن گیا اور انھیں جلتی ہوئی آگ میں ڈلوا دیا۔ لیکن حکم خداوندی سے آگ گلستان بن گئی اور حضرت ابراہیمؑ آگ سے محفوظ رہے۔ بعد میں ایک مچھر کے ناک میں گھس جانے کی وجہ سے نمرود کی موت واقع ہو گئی۔ فرعون کو نجومیوں نے بتایا تھا کہ ایک بچہ ایسا پیدا ہوگا جو اس کی سلطنت کو نیست و نابود کر دے گا اور توحید کا پیغام بھی پھیلائے گا، بت پرستی کو ختم کر دے گا، چنانچہ اس پیش گوئی پر فرعون نے ہزاروں نوزائیدہ بچے قتل کروا دیے لیکن حکم خداوندی سے حضرت موسیؑ محفوظ رہے ۔