مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور پاکستان کے مسائل

0 minutes, 0 seconds Read
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں مجھے بھی شامل کیا جانا چاہیے، وہ ایسے رہنما کو قبول نہیں کریں گے جو سابق ایرانی سپریم لیڈرکی پالیسیوں کو جاری رکھے۔ دوسری جانب یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جنگ میں مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد جہاں ایک طرف عالمی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، وہیں ایران کے قریبی سفارتی اتحادی روس اور چین نے سخت بیانات کے باوجود براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔

 عالمی سیاست کے افق پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور غیر یقینی کی علامت بن چکا ہے۔ ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سیاسی توازن پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں انھیں بھی شامل کیا جانا چاہیے اور وہ ایسے رہنما کو قبول نہیں کریں گے جو سابق ایرانی سپریم لیڈر کی پالیسیوں کو جاری رکھے، بین الاقوامی سفارت کاری کے اصولوں کے حوالے سے ایک غیر معمولی اور متنازع اظہار سمجھا جا رہا ہے۔

کسی خود مختار ریاست کی داخلی قیادت کے انتخاب میں بیرونی طاقت کی اس نوعیت کی خواہش نہ صرف عالمی قوانین کی روح سے متصادم ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ بڑی طاقتیں اب بھی عالمی سیاست کو طاقت کے روایتی پیمانوں کے تحت دیکھتی ہیں۔دوسری طرف خطے میں جاری جنگی ماحول نے انسانی بحران کو بھی جنم دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً دو سو بچے اپنی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جنگ کے اعداد و شمار اکثر سیاسی اور عسکری تجزیوں میں ایک عددی شکل اختیار کر لیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر ہلاک ہونے والا بچہ ایک خاندان کا خواب، ایک ماں باپ کی امید اور ایک معاشرے کے مستقبل کا حصہ ہوتا ہے۔

جب جنگوں کے نتیجے میں بچوں کی جانیں ضایع ہوتی ہیں تو دراصل انسانیت کا ضمیر مجروح ہوتا ہے۔یہ بات تاریخ کے ہر دور میں دیکھی گئی ہے کہ جنگیں اگرچہ ریاستیں لڑتی ہیں لیکن ان کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جدید جنگی ٹیکنالوجی نے اگرچہ فوجی قوت میں اضافہ کیا ہے، مگر اس کے باوجود شہری آبادی کو محفوظ رکھنے کی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکی۔ ڈرون حملے، میزائل کارروائیاں اور فضائی بمباری اکثر ایسے علاقوں تک پہنچ جاتی ہیں جہاں عام شہری رہتے ہیں۔ حالیہ بحران میں بھی یہی صورتحال نظر آ رہی ہے ۔اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ روس اور چین نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں پر سخت بیانات دیتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، تاہم اب تک انھوں نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔

یہ رویہ دراصل عالمی طاقتوں کے اس محتاط توازن کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت وہ اپنے اتحادیوں کی حمایت تو کرتے ہیں لیکن کسی ایسی جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے بچنا چاہتے ہیں جو عالمی سطح پر ایک بڑے تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔روس اور چین دونوں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے پیمانے کی جنگ کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ توانائی کی عالمی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور عالمی مالیاتی نظام سب اس طرح کے بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ سفارتی سطح پر بیانات سخت ہوتے ہیں، لیکن عملی طور پر بڑی طاقتیں براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کرتی نظر آتی ہیں۔

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے اور وہ عالمی سفارتی نظام کی کمزوری ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے اصولی طور پر عالمی امن کے محافظ سمجھے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب بڑی طاقتوں کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں تو یہ ادارے اکثر مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا نظام کئی مواقع پر عالمی امن کی کوششوں کو محدود کر دیتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے کے لیے اس خطے کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اگر اس خطے میں جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی معیشت بھی اس بحران سے متاثر ہونے کا خدشہ رکھتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی بڑے جنگی بحران کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر مشکل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی معیشتیں پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہوتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ طاقت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی پالیسی ہمیشہ پائیدار نتائج نہیں دیتی۔ سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام ہی وہ راستے ہیں جو دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اگر عالمی برادری واقعی ایک محفوظ اور مستحکم دنیا کی خواہاں ہے تو اسے طاقت کی سیاست کے بجائے انصاف اور مکالمے کی سیاست کو فروغ دینا ہوگا۔ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ خطے میں جاری جنگ کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خطہ اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی اثرات محسوس کرتا ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو براہِ راست جنگ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کے بالواسطہ اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں سب سے بڑا خطرہ بیرونی عوامل سے زیادہ اندرونی بدانتظامی اور ذخیرہ اندوزی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

مارکیٹ میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو جاتی ہے جس کا فایدہ بعض مفاد پرست عناصر اٹھاتے ہیں۔ یہ عناصر پٹرولیم مصنوعات سے لے کر آٹا، چینی اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کو ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا جا سکے۔ عوام کو لمبی قطاروں، مہنگائی اور قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ ذخیرہ اندوز غیر قانونی منافع کما رہے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس پورے کھیل میں بعض اوقات بیوروکریسی، انتظامیہ اور سرکاری محکموں کے کرپٹ اہلکار بھی کسی نہ کسی شکل میں شریک ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے قانون کی عمل داری کمزور پڑ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اپنی قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود گزشتہ دو، تین دنوں کے دوران کراچی میں گیس کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی طویل لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس سے شہریوں کو خصوصا افطار کی تیاری میں مشکلات کا سامنا ہے، یہاں پر محکمانہ سطح پر بیوروکریسی بحران کی ذمے دار ہے۔

ہمارے یہاں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کے لیے دوست ممالک، خصوصاً سعودی عرب، ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان تک آنے والی سپلائی لائنز آبنائے ہرمز کی بجائے مختلف سمندری راستوں سے آتی ہیں اور ہر صورتحال میں فوری تعطل کا امکان ضروری نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اگر ملک کے اندر مصنوعی بحران پیدا کر دیا جائے تو عوام کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں حکومت کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ مارکیٹ پر کڑی نظر رکھے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے۔ ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور متعلقہ اداروں کو فعال بنانا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت کو بروقت روکا جا سکے، اگر حکومتی ادارے سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ اپنی ذمے داریاں ادا کریں تو ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل کو بڑی حد تک قابو میں لایا جا سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نہ صرف سخت قانونی اقدامات کرے بلکہ عوام کو بھی اعتماد میں لے۔ شفاف معلومات کی فراہمی، موثر نگرانی اور فوری کارروائی ایسے اقدامات ہیں جو بحران کی فضا کو ختم کر سکتے ہیں۔ اگر ریاست بروقت اور مضبوط فیصلے کرے تو نہ صرف ذخیرہ اندوزوں کی شاطرانہ چالوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو بلاوجہ پیدا ہونے والی مشکلات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی ممکنہ بیرونی بحران کو اندرونی بدعنوانی اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے عوامی مصیبت میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔

Similar Posts