لی یوئی نامی اس بچی نے اپنی جمع پونجی سے دکان خرید کر نہ صرف کاروبار شروع کیا بلکہ اپنی والدہ کو تنخواہ پر کام بھی دے دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی چین کے صوبے جیانگشی سے تعلق رکھنے والی لی یوئی نے گزشتہ چند برسوں کے دوران چینی نئے سال پر ملنے والی رقم کو خرچ کرنے کے بجائے بچت میں تبدیل کیا۔ اس نے تقریباً 44 ہزار یوآن، یعنی پاکستانی کرنسی میں 17 لاکھ روپے سے زائد رقم جمع کی اور اسے کسی کاروبار میں لگانے کا فیصلہ کیا۔
بچی کا خیال تھا کہ بینک میں رقم رکھنے سے حاصل ہونے والا منافع بہت کم ہوتا ہے، اس لیے اس نے مختلف مواقع تلاش کرنے شروع کیے۔ اسی دوران اسے ایک اسٹیشنری شاپ فروخت کےلیے دستیاب نظر آئی، جسے اس نے خریدنے کا فیصلہ کرلیا، حالانکہ اس کی والدہ نے اسے ممکنہ نقصان سے خبردار بھی کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق فروری میں چینی نئے سال کے موقع پر لی یوئی نے دکان کو نئے سامان سے بھر کر باقاعدہ کاروبار کا آغاز کیا۔ مارچ میں اسکول کھلنے کے بعد اس نے اپنی والدہ کو ماہانہ 3 ہزار یوآن تنخواہ پر ملازم رکھ لیا، جو اب روزمرہ کے امور سنبھالتی ہیں۔
بچی خود کاروبار کے اہم فیصلے کرتی ہے، سپلائرز سے بات چیت کرتی ہے، قیمتیں طے کرتی ہے اور حکمت عملی بناتی ہے۔ وہ روزانہ صبح دکان کھولتی ہے، سامان کا جائزہ لیتی ہے اور پھر اسکول چلی جاتی ہے۔ اسکول کے بعد وہ دکان پر آکر ہوم ورک بھی کرتی ہے اور شام ساڑھے آٹھ بجے تک اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہے۔
لی یوئی نے جدید تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کا استعمال بھی خود سیکھ لیا ہے تاکہ کاروباری امور کو بہتر انداز میں چلا سکے۔ جب کچھ عرصہ قبل دکان کی آمدنی میں کمی آئی تو اس نے قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا، جس کے بعد اشیا کی قیمتیں تقریباً 50 فیصد کم کرنے سے خریداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اگرچہ بچی نے اپنی آمدنی کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم بتایا جاتا ہے کہ اس نے دکان پر لگائی گئی ابتدائی سرمایہ کاری واپس حاصل کرلی ہے۔ دوسری جانب اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر بیٹی کی تعلیم متاثر ہوئی تو وہ کاروبار فوری طور پر بند کردیں گی۔