متحدہ عرب امارات میں عیدالفطر کی ممکنہ تاریخ کے بارے میں فلکیاتی ماہرین نے اپنی رائے پیش کر دی ہے، جس کے مطابق اس سال عید جمعہ 20 مارچ 2026 کو ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ روایتی طور پر چاند نظر آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
دنیا بھر میں اس وقت رمضان المبارک عقیدت اور مذہبی جوش کے ساتھ جاری ہے اور لوگ عبادات کے ساتھ ساتھ عید کی تیاریوں میں بھی مصروف ہیں۔ اسی دوران فلکیاتی اداروں کی جانب سے عید کے چاند کے حوالے سے ابتدائی اندازے سامنے آئے ہیں۔
شارجہ اکیڈمی برائے فلکیات کے مطابق رمضان کے 29ویں دن یعنی بدھ 18 مارچ کو چاند دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس روز چاند غروب آفتاب سے پہلے ہی افق سے نیچے چلا جائے گا، جس کی وجہ سے اسے عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی امارات فلکیاتی سوسائٹی کے رکن تمیم التمیمی نے رمضان کے 28ویں روز علی الصبح نمودار ہونے والے چاند کی تصویر حاصل کی۔ ان کے مطابق یہ منظر صبح تقریباً چھ بجے امارات کے افق پر دیکھا گیا، جسے رمضان کے آخری ایام کا چاند قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق ’نئے چاند کی پیدائش‘ جمعرات کی صبح ہوگی اور شام تک اس کی عمر چند گھنٹوں سے کچھ زیادہ ہوگی، لیکن اس کی پوزیشن اور زاویہ ایسا ہوگا کہ اسے دیکھنا انتہائی مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف جدید آلات کے ذریعے ہی اس کی موجودگی کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔
ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے تیس روز مکمل ہوں گے اور جمعرات 19 مارچ کو آخری روزہ ہوگا۔ اس کے بعد جمعہ 20 مارچ کو شوال کا آغاز اور عیدالفطر منائے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مختلف ممالک میں جغرافیائی حالات کے فرق کی وجہ سے چاند نظر آنے کی صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ کچھ خطوں میں جہاں موسمی اور فلکیاتی حالات بہتر ہوں، وہاں چاند نظر آنے کے امکانات موجود ہیں۔
ایسے ممالک جو چاند دیکھنے کے لیے صرف آنکھ یا دوربین پر انحصار کرتے ہیں، وہ اپنی مقامی رویت کی بنیاد پر عید ایک دن بعد یعنی ہفتہ 21 مارچ کو بھی منا سکتے ہیں۔
حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عید کی حتمی تاریخ کا اعلان سرکاری طور پر چاند کی رویت کے بعد کیا جائے گا۔