ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور

0 minutes, 0 seconds Read
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا.

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ میں حکومتی نمائندہ سمعیہ رفیعی نے اس تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قانون ساز اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

تہران کے معروف مقام والیاسر اسکوائر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل اختیار حاصل ہے۔

سمیعہ رفیعی نے کہا کہ ایران نے اپنے مخالفین کو انھیں فراہم کردہ سہولتوں سے محروم کر دیا ہے جس پر دشمن ممالک اس نئی صورتحال کو قبول کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

ایرانی رکن پارلیمان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اس جنگ کا خاتمہ بالآخر ایران کی فیصلہ کن فتح پر ختم ہوگا جس کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنا مخالف ممالک کے لیے مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی اس آبی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی پابندی، ٹیکس یا رکاوٹ عالمی توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

تاحال اس تجویز پر مغربی ممالک یا خلیجی ریاستوں کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین نے اسے بین الاقوامی قوانین خصوصاً سمندری راستوں کی آزادی سے متعلق اصولوں کے منافی قرار دیا۔

 

Similar Posts