امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ امن مذاکرات کے دعوؤں پر ایرانی حکام نے سخت اور محتاط ردعمل دیا ہے۔ ایرانی قیادت کے مطابق جب بھی امریکی صدر قریب الوقوع امن کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب درحقیقت جنگ کے مزید قریب ہونے سے لیا جاتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ لڑائی پہلے ہی جاری ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معقول قرار دینے اور مذاکرات کے قریب ہونے کے بیانات کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ایران کے مطابق یہ امریکی پالیسی، خصوصاً ٹرمپ کے دور میں، ایک مخصوص طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔
ایرانی حکام اس وقت اسلام آباد میں ہونے والی سرگرمیوں کے بجائے ممکنہ زمینی حملے کے خدشے پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
ان کے بیانات کا مرکز بھی زیادہ تر ایران کی دفاعی تیاریوں اور زمینی جنگ کے لیے آمادگی پر ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امن معاہدے کے بجائے یہی صورتحال زیادہ متوقع ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے زمینی کارروائی کی تو یہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں بدل جائے گی۔
محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ صورتحال ٹرمپ کے لیے بدترین ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور جنگ پہلے ہی امریکی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ امریکی کانگریس نے بھی تاحال اس جنگ کی باقاعدہ منظوری نہیں دی۔
ایرانی حکام اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو یہ ایک براہِ راست اور برابر کی لڑائی ہوگی۔
ان کے مطابق ایران کے پاس لاکھوں کی تعداد میں فوجی اہلکار اور بڑی تعداد میں بسیج نیم فوجی فورس موجود ہے، جو ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی کسی بھی زمینی جنگ کی صورت میں امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف جنگ کو طول دے گا بلکہ اسے امریکی قیادت، خصوصاً ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ بھی بنا دے گا۔