ذرائع کے مطابق شوگر ملز کے لائسنس، امپورٹ اور ایکسپورٹ سمیت ہر شعبہ ڈی ریگولیٹ ہوگا، شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر پنجاب، کے پی، بلوچستان نے آمادگی ظاہر کردی ہے سندھ کی سفارشات موصول ہونا باقی ہیں۔
وزارت صنعت و پیداوار کے پیش کردہ پلان میں کسانوں کے تحفظ اور کارٹلائزیشن کی روک تھام کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی تجویز شامل ہے، کسانوں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی، کسی زون یا اقسام کی پابندی نہیں ہوگی،کسان کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں آزاد ہوگا۔
گنے کی قیمت کا تعین مارکیٹ کرے گی، آٹھ ماہ بند رہنے والی شوگر ملز باہر سے خام مال منگوا کر چینی بنا سکیں گی۔ حکومت چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی نہیں دے گی ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی بھی ختم کر دی جائے گی۔
کسانوں کو نقصان کے لیے ممنوعہ گنے کی اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کرنے کی تجویز ہے، شوگر ملز کو باہر سے خام مال منگوا کر چینی تیار کر کے برآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔