مجتبیٰ خامنہ ای کی ’’وار روم‘‘ ویڈیو جعلی نکلی، اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف

0 minutes, 0 seconds Read

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی مبینہ ’’وار روم‘‘ ویڈیو کے بارے میں اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں، جن کے مطابق یہ ویڈیو مستند نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) سے تیار کی گئی ہے اور اس کی کسی بھی سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

بھارتی خبر رساں ادارے ہندوستان ٹائمز کے مطابق وائرل ہونے والی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک جدید ملٹری آپریشنز روم میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں اسرائیل کے ڈیمونا نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کا نقشہ اور کوآرڈینیٹس نمایاں طور پر دکھائے گئے ہیں۔

تاہم فیکٹ چیکنگ کے بعد یہ دعویٰ درست ثابت نہیں ہوا۔ اوپن سورس تجزیے، بشمول “گروک” کی رپورٹ، کے مطابق اس ویڈیو میں اے آئی سے بنائے گئے مناظر کی واضح نشانیاں موجود ہیں، جبکہ اس کی کسی مستند ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ جی بی ایکس پریس‘‘ کی جانب سے شیئر کی گئی، جس میں اسے’’بریکنگ نیوز‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے پہلی بار مجتبیٰ خامنہ ای کی ملٹری کمانڈ سینٹر میں موجودگی کی ویڈیو جاری کی ہے۔

تاہم ایران کے سرکاری خبر رساں اداروں جیسے اسلامک ریپبلک نیو ایجنسی، اسلامک ریپبلک آف ایران براڈ کاسٹنگ، تسنیم نیوایجنسی سے حوالے سے کوئی خبر نشر نہیں کی۔

اسی طرح عالمی خبر رساں ادارے جیسے بی بی سی، رائٹرز اور سی این این نے بھی اس مبینہ ویڈیو یا کسی ایسی پیش رفت کی تصدیق نہیں کرتے۔

اوپن سورس معلومات کے مطابق، 2026 میں اپنے والد علی خامنہ ای کے بعد قیادت سنبھالنے کی خبروں کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی مستند عوامی ویڈیو یا منظر عام پر نہیں آیا، اور ان کی جانب سے صرف تحریری بیانات ہی جاری کیے گئے ہیں۔

Similar Posts