سیاسی ،سماجی اور علمی زوال کی کہانی

0 minutes, 0 seconds Read
معروف دانشور اور علمی و فکری شخصیت خورشید ندیم کے بقول’’ جب قومی سطح پر بڑوں کو چھوٹا اور چھوٹوں کو بڑا کردیا جائے تو معاشرے زوال کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔‘‘یہ اس سماج اور سرکاری نظام کا کڑوا سچ ہے اور اسی سچ کے درمیان ہماری سچائی کی تلخ حقیقیں موجود ہیں ۔اس بات کو یقینا سمجھنا ہوگا کہ سماج میں سماجی ،عملی ،سیاسی اور فکری وزال کیسے آتا ہے اور اس کھیل میں خود ریاست اور طاقت ور حکمران طبقات کا اپنا کردار کیا ہوتا ہے ۔

کیونکہ سماج کو کمزور رکھنا اور لوگوں کو علمی ، فکری ،سیاسی اور سماجی شعور نہ دینے کے پیچھے خود ریاست اور حکمرانوں کے اپنے مفادات وابستہ ہوتے ہیں کیونکہ لوگوں کو کمزور یا لاعلم رکھ کر ہی ان کے اپنے سیاسی مفادات پورے ہوتے ہیں۔ایک خاص سوچ اور اور فکر کی بنیاد پر طاقت ور طبقات نے معاشرے میں علمی اور سماجی زوال کو پھیلایا ہے اور آج بھی یہ کھیل ہماری مجموعی سیاست، مذہب، سماج اور دیگر اداروں پر بالادست نظر آتا ہے ۔

یہ جو سیاست کے بگاڑ کی کہانی ہے، وہ محض اسٹیبلیشمنٹ تک محدود نہیں لیکن خود تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور ان کی قیادت نے اپنے طرز عمل اور فیصلوں سے اپنی جماعتوں میں آمریت کو قائم کیا ہوا ہے، وہ بھی قابل گرفت ہے ۔ یہ قیادت اپنی ارٹی کے اندر متبادل آوازوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور خود ان کا سیاسی و جمہوری مقدمہ ایک نمائشی کھیل کا حصہ ہے اور اسٹیبلیشمنٹ کی سہولت کاری تک محدود ہے ۔ ہمارے اہل سیاست کو اپنی بقا کے لیے درباری کلچر کی ضرورت ہے جو ان کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ایسے میں سماج کیسے حقیقی جمہوریت کے قریب آسکتا ہے اس پر ایک بڑی بحث درکار ہے ۔

ایک منطق دی جاتی ہے کہ اگر سیاسی عمل آگے بڑھتا رہے تو وہ اپناجمہوری راستہ اختیار کرلیتا ہے۔یہ بات عملا تو درست لگتی ہے لیکن عملی طور پر اگر سیاست اور جمہوریت کی کوئی سمت نہ ہو یا اس میں کوئی شفافیت یا جوابدہی یا داخلی جمہوری نظام کا نہ ہونا بھی جمہوری نظام کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ہماری سیاست ،جمہوریت اور اقتدار کے کھیل کی کہانی طاقت کے مراکز کے ارد گرد ہی گھوم رہی ہوتی ہے۔اس کا کوئی براہ راست تعلق سماج اور سماجی یا سیاسی رویوں کی تبدیلی سے نہیں ہوتا اور نہ ہی سیاسی جماعتیں اس میدان کوئی عملی کام کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کو اپنی جماعتوںمیں ایک ایسا ہجوم درکار ہے جو ان کی بادشاہت کو چیلنج نہ کرے اور اسی بنیاد پر ہماری مجموعی سیاست زوال پزیری کا شکار ہے ۔

سیاست،جمہوریت،آئین اور قانون کی حکمرانی یا اداروں کی بالادستی کی جنگ میں ایک بڑا کردار رائے عامہ بنانے والے افراد اور اداروں کا ہوتا ہے ۔یہ افراد اور ادارے ریاست اور حکومت کی سمت کو درست رکھنے میں اپنی جہاں فکری جدوجہد کرتے ہیں وہیں ان پر ایک علمی اور فکری دباو ڈال کر ان کو درست سمت پر لانے پر مجبور کیاجاتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس دو سطحوں پر اس طرح کے فکری دانشور موجود ہیں ۔اول وہ جو اپنی آزاد رائے رکھتے ہیں اور حکومت کی کاردکردگی پر ایک تنقیدی رائے رکھ کر دباؤ کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن ان کی نظام میں کوئی رسائی نہیں ہے اور یہ نظام ان کی اہل دانش کو اپنے سیاسی نظام کی بقا کے لیے خطرہ سمجھتا ہے ۔جب کہ اس کے مقابلے میں ریاست اور حکمرانوں کے اپنے سیاسی ،علمی ،دفاعی اور مذہبی یا قانونی اہل دانش ہیں جن کو ریاست کے نظام تک خوب رسائی ہوتی ہے اور ان کو مختلف فورمز پر نمایاں طور پر ریاست اور حکومت کی ترجمانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اوراس کے عوض یہ افراد اور ادارے حکومتی نظام سے مختلف نوعیت کی مراعات بھی حاصل کرتے ہیں۔اس کے بدلے جب بھی جہاں بھی نظام کو اپنی بقا کے لیے سیاسی اور مذہبی فتوے درکار ہوتے ہیں تو یہ لوگ اس کھیل میں پیش پیش ہوتے ہیں۔تعلیمی اداروں سے علمی اور فکری مباحث یا عملی تحقیق کا خاتمہ یا جو ریاست اور حکومت کو سماج میں مختلف نوعیت کے اہم اور حساس مسائل درپیش ہیں اس کا حل علمی اور فکری یا تحقیقی اداروں سے نہ آنا یاان کی حیثیت کو قبول نہ کرنا بھی ہماری مجموعی ناکامی کے کھیل کا حصہ ہے۔

سماج کی سطح پر اگر آپ کسی آئین اور قانون یا سیاسی اور جمہوری یا اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھ رہے یا ایک دوسرے کی حیثیت کو قبول کرنے کی بجائے ان میں مداخلت یا ان پر اپنی سیاسی برتری قائم رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ان سب میں جو ٹکراو اور تناو یا دشمنی پیدا ہوگی اس کا ایک بڑا نقصان سماج میں انتشار اور زوال کی صورت میں سامنے آتا ہے۔اسی طرح جب ہم منصفانہ معاشرہ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ہر نظام میں موجود شفافیت،نگرانی، جوابدہی اور احتسابی نظام کی موجودگی پرور دیتے ہیں یا لوگوں میں سیاسی،سماجی، معاشی اور قانونی انصاف پر زور دیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے ترقی کی بنیاد پر جدید معاشروں کا قیام اور زوال پزیر معاشرے یا اداروں سے لاتعلقی ہوتا ہے ۔یہ جو کہا جاتا تھا کہ معاشرے کے پڑھے لکھے افراد لوگوں کی سوچ اور فکر میں مثبت پہلو پیدا کرتے ہیں لیکن یہاں کے پڑھے لکھے افراد کی شاہی دربار کی سطح پر رسائی اور طاقت ور طبقات کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ بن جائے تو پھر سماج کے عملی طور پر آگے بڑھنے کا سفر پیچھے کی طرف چلاجاتا ہے۔یہ جو مذہب کی اعلی روایات کے مقابلے میں ہم نے انتہاپسندی اور عدم برداشت کی جو شکلیں دیکھیں یا دیکھ رہے ہیں اس نے بھی پورے سماجی، سیاسی اور مذہبی ڈھانچے کو خراب کردیا ہے۔انتہا پسندی کا عمل اب محض مذہبی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اس نے پوری سیاست کو بھی انتہا پسند سیاست اور سیاسی تقسیم کا شکار کردیا ہے ۔اس کے مقابلے میں ریاست اور حکومت کا عملی بیانیہ برے طریقے سے ناکامی سے دوچار ہے۔

ویسے بھی جب سماج میں علم و فکر کی اہمیت کم ہوجائے اور اس کے مقابلے میں دولت مند افراد بالادست ہوں تو پھر علم کے میدان کا پیچھا رہنا فطری امر ہوتا ہے۔اس لیے جب ریاست اور حکمرانوں کی ترجیحات میں تعلیم،کتاب، تحقیق، کتاب گھر،علمی و فکری مباحث،ان کی فکری سطح کی پذیرائی کا عمل پیچھے رہ جائے یا ریاست اور حکومت کے نظام میں ان کے لیے مالی طور پر مالیاتی وسائل نہ ہوں یا وہ ان کی ترجیحات کا ہی حصہ نہ ہوں تو سماج میں بہتری کا عمل کیسے آگے بڑھ سکتا ہے۔اس کا اندازہ ہم حکومتی سطح پر تعلیم اور تحقیق کے مختص مالیاتی بجٹ کی بنیاد پر پرکھ سکتے ہیں کہ حکمرانوں کی ترجیحات کیا ہیں۔مسئلہ معاشے کے بانجھ پن یا فکری انحصاط کا نہیںہے بلکہ ریاست اور حکمران طبقات کی سطح پر ہمیں بانجھ پن کی صورت میں نظر آتا ہے جو نہ تو خود تبدیل ہونا چاہتا ہے اور نہ تبدیل کرنے والوں کو پزیرائی دینے کے لیے تیار ہے۔ان کی سطح پر اسٹیٹس کو کی موجودگی ہی ان کی سیاسی طاقت کے زمرے میں آتا ہے اور وہ اسی نظام کو تحفظ دے کر اپنی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب یہ ہی حکمران طبقات سماجی علوم اور سماجکی کلچر سمیت ادب اور تھیٹریا فلسفے پر پابندی لگادیں اور طاقت ور طبقات اپنا نظام جبر کی بنیاد پر دوسروں پر لاگو کرنا شروع کردیں تو پھر اس نتیجہ مزید انتہا پسندی یا پر تشدد رجحانات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ جو ہم نے اپنے ادارہ جاتی نظام میں سیاسی مداخلتوں ااور اقربا پروری کے کھیل کو پروان چڑھایا ہے اس سے سماج کسی بھی طور پر آگے نہیں بڑھ سکیں گے بلکہ یہ ادارے عملی سطح پر سیاسی اور انتظامی جمود کا شکار ہوںگے۔

دانشور خورشید ندیم صحافت کے کردار پر بھی بات کرتے ہیں، ان کا سوال ہے کہ یہ کن ہاتھوں میں چلا گیا ہے،عرض کرنا ہے کہ یہ ان ہی ہاتھوں میں ہے جہاں طاقت ور طبقات اسے لے کرجانا چاہتے ہیں ۔کیونکہ اس میڈیم کے ذریعے طاقت ور طبقات کی باہمی کشمکش کا کھیل کھیلاجاتا ہے،یہ عملی اور فکری میدان نہیں اور نہ ہی سنجیدہ مباحث کا مرکز۔ موجودہ حالات میں پرنٹ میڈیا غنیمت ہے کیونکہ وہ آج بھی سنجیدہ مباحث، آراء اور تحقیقی خبر کا قابل اعتماد فورم ہے وگرنہ الیکڑانک وسوشل اور ڈیجٹل فورمز تو کھیل تماشہ کی حد تک محدود ہوچکا ہے ۔ البتہ اس نے معاشرے کے مجموعی مزاج میں تشدد اور مخالفت برائے مخالفت کے رجحان کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ اگر ہم نے سماج کو اعلی علمی یا فکری بنیادوں پر آگے بڑھانا ہے تو بہت کچھ تبدیل کرنا پڑے گا مگرکیا کوئی تبدیلی کے لیے تیار ہے، اس پر غور ہونا چاہیے۔

Similar Posts