عالمی سفارتکاری میں پاکستان کا نام روشن، بھارتی تجزیہ کار مودی پر برس پڑے

0 minutes, 0 seconds Read
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی میں پاکستان کی سفارتی کامیابی کے بعد بھارت میں اس پیش رفت پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں بعض تجزیہ کاروں نے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ بحران میں اہم ثالثی کردار ادا کیا، جس کے باعث عالمی سطح پر اس کی سفارتی حیثیت مضبوط ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس تناظر میں بھارتی وزیراعظم مودی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔

ایک بھارتی تجزیہ کار نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک دہائی قبل اڑی واقعے کے بعد مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار نمایاں جبکہ بھارت پس منظر میں نظر آ رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بات چیت کی پیشکش کی، جسے عالمی سطح پر مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ ایران کی قیادت کی جانب سے بھی اس پیش رفت کی منظوری دی گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملے روکے گئے تو ایران بھی جوابی کارروائیاں روک دے گا۔

ماہرین کے مطابق خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال جنوبی ایشیا کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ پاکستان کا کردار عالمی سطح پر مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

Similar Posts