امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل کی اندرونی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لپید نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ اس جنگ بندی کی حمایت کرنے پر نیتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے ایک بڑی سیاسی اور تزویراتی ناکامی قرار دیا ہے۔
یائر لپید کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی تاریخ میں اس سے بڑی سیاسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی کیونکہ جب ہماری قومی سلامتی کے اہم ترین فیصلے کیے جا رہے تھے تو اسرائیل وہاں موجود تک نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے تکبر، غفلت اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی کمی کی وجہ سے جو نقصان ہوا ہے، اسے ٹھیک کرنے میں برسوں لگیں گے۔
اپوزیشن لیڈر نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی فوج اور عوام نے تو اپنا فرض پورا کیا لیکن حکومت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
ان کے بقول فوج نے وہ سب کر دکھایا جو اس سے مانگا گیا تھا اور عوام نے بھی غیر معمولی ہمت دکھائی، مگر نیتن یاہو سیاسی طور پر ناکام ہو گئے اور وہ اپنے طے کردہ اہداف میں سے کوئی بھی حاصل نہیں کر سکے۔
یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب نیتن یاہو کے دفتر سے یہ بیان جاری ہوا کہ اسرائیل امریکی صدر کے ایران پر حملے روکنے کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک اہم شرط یہ رکھی ہے کہ اس دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوگا اور یہ صرف ایران تک محدود رہے گی۔
اسرائیلی حکومت نے اس فیصلے کی حمایت کے لیے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھول دے اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے بند کرے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے منگل کے روز یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ ایران پر بمباری اور حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔
اس صورتحال نے نیتن یاہو کی حکومت کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے جہاں ایک طرف انہیں اپنے سب سے بڑے اتحادی امریکا کے فیصلے کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے اور دوسری طرف ملک کے اندر سے ان پر بزدلی اور ناکامی کے الزامات لگ رہے ہیں۔