امریکا نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

0 minutes, 0 seconds Read
برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے قبل واشنگٹن نے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا تھا تاکہ تہران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران معاہدے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی انتظامیہ پس پردہ جنگ بندی کے لیے سرگرم تھی۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا کئی ہفتوں سے پاکستان سے رابطے میں تھا اور اس پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ ایران کو قائل کرے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کم ہو۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا، اور بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ ملک ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جاری بیک چینل سفارتکاری نے اہم پیش رفت ممکن بنائی۔

یہ سفارتی کوششیں اس وقت کامیاب ہوئیں جب منگل کی رات امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دی تھیں، جن میں تہذیب تباہ کرنے جیسے بیانات بھی شامل تھے۔ تاہم پس پردہ وہ جنگ بندی کے خواہاں تھے۔

اخبار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث ٹرمپ کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے حق میں تھے، جب انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بظاہر سخت بیانات کے باوجود سفارتی سطح پر جنگ کو روکنے کی سنجیدہ کوششیں جاری تھیں، جن میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا۔

Similar Posts