سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ناکہ بندی جاری رکھنا اور ایران کو جنگی جرائم کی دھمکیاں دینا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف بیانات دے کر یہ دعویٰ کرنا کہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، حقیقت کے برعکس ہے۔
رضا امیری مقدم کے مطابق جب تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، اس وقت تک اختلافات بھی برقرار رہیں گے اور مسائل کا حل ممکن نہیں ہو سکے گا۔
You cannot keep violating the international law, double down on your blockade, threaten Iran with further war crimes, insist on unreasonable demands, pace out with rethorics and pretend to be pursuing “Diplomacy”.
As long as the naval blockade remains, faultlines remain.
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 19, 2026
دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایک ایرانی بحری جہاز کو تحویل میں لینے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ سینٹکام کے مطابق یہ جہاز امریکی کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے اس ایرانی جہاز کو اس وقت روکا جب وہ آبنائے ہرمز میں عائد ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک جانب سفارتی بیانات سامنے آ رہے ہیں تو دوسری جانب عملی اقدامات تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔