ایران سے کشیدگی کے دوران فوجی مشق؛ مشرق وسطیٰ میں امریکی لڑاکا طیاروں کی گھن گرج

امریکی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کثیر روزہ جنگی تیاریاں اور فوجی مشق کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کا مقصد تیزی سے تعیناتی اور فوجی آپریشنز کی استعداد کا جائزہ لینا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فضائیہ کی یہ فوجی مشق نفری اور آلات کی فوری نقل و حرکت، ہنگامی مقامات پر تقسیم شدہ آپریشنز، اور بڑے عملیاتی علاقوں میں مشترکہ بین الاقوامی کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔

کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈیرک فرانس نے مزید بتایا کہ یہ مشق ہمارے لڑاکا عملے کی استعداد کو برقرار رکھنے اور اس عزم کی تصدیق کرنے کے لیے ہے کہ ہوائی طاقت جہاں اور جب ضرورت ہو دستیاب رہے گی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ فوجی مشق کے دوران چھوٹے اور مؤثر سپورٹ پیکجز کے ساتھ متعدد ہنگامی مقامات پر ٹیمیں تعینات کی جائیں گی تاکہ فوری سیٹ اپ، لانچ اور بازیابی کے طریقہ کار کی جانچ کی جا سکے۔

ان کے بقول تمام سرگرمیاں میزبان ملک کی منظوری اور سول و عسکری ہوا بازی حکام کے تعاون سے انجام دی جائیں گی۔

یہ مشق ایسے وقت ہو رہی ہے جب واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے اور پیر کے روز کیریئر اسٹریک گروپ بھی تعینات کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کے قتل کے خدشات پر کہا تھا کہ اگر ایسے واقعات ہوئے تو امریکا مداخلت کرے گا۔

تاہم بعد میں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران نے مظاہرین کو پھانسی دینے کا عمل روک دیا ہے اس لیے اب حملہ نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج کے چیف نے کسی بھی فوجی مہم پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری نگاہیں ہدف اور انگلیاں ٹرگر پر ہین بس سپریم لیڈر آیت اللہ کے اشارے کے منتظر ہیں۔

 

 

Similar Posts