سعودی اور عرب ممالک تو ہر طرف سے تعریف کے ڈونگڑے برسا رہے ہیں، یہاں تک انڈونیشیا، ملایشیا بھی ہماری دوستی پر پھولے نہیں سما رہے ہیں، تاجکستان، قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغیزستان، آذربائی جان اور ایران بھائی جان بھی خوش ہیں اور تو اور بنگلادیش بھی تقریباً اپنا ہوچکا ہے، مطلب یہ کہ الغاروں، تلغاروں، خوش خبریاں، خرواروں اور بیل ماروں مژدے آرہے ہیں، اونٹ باروں اور شترماروں بیانات آرہے ہیں، ٹرک باروں اور ریل باروں اطلاعات مل رہی ہیں،ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان پر سارے ممالک لٹو ہورہے ہیں،لیکن۔اس لیکن کے بعد وہی بات کہ اراضی کاغذات میں تو بہت ہے لیکن موقع پر نہیں مل رہی ہے۔اور اس کا صرف ایک ہی مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے ’’کالانعام‘‘بڑے ناشکرے ہیں، خواہ مخواہ منفی تنقید کیے جا رہے ہیں، ’’مصنوعی‘‘ مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں، مصنوعی بیروزگاری کے قصے سنا رہے ہیں اور مصنوعی امن وامان کی باتیں کررہے ہیں، پیٹرولیم، گیس اور بجلی کی’’مصنوعی قلت پیدا کررہے ہیں‘‘مصنوعی نرخوں کا راگ الاپ رہے ہیں، منفی تنقیدیے اور ناشکرے کہیں کے۔احسان فراموش۔نیکی برباد گناہ لازم۔ہم تو بہت پہلے سے جانتے تھے کہ یہ پاکستان کے کالانعام سدا سدا کے احسان فراموش ہیں نیکی بردوش ہیں۔خرو خرگوش ہیں، منکر ہیں، جھوٹے ہیں، ملک دشمن ہیں۔
ان کو کچھ بھی دو، نہال کر دو۔مالامال کردو۔نہیں مانیں گے اور بدستور احسان فراموش، نیکی فراموش رہیں گے۔منفی تنقید کریں گے، حکومت کو بُرا بھلا کہتے رہیں گے اور جعلی و مصنوعی مسائل پیدا کرتے رہیں گے،اب دیکھیں نا پاکستان میں کتنی اچھی اچھی حکومتیں، لیڈر اور ممتاز رہنما پیدا ہوئے ،جنھوں نے اپنا خواب وخور حرام کرکے ان کی خدمت کی لیکن ان بدبخت، تیرہ بخت، دل سخت عوام کالانعام نے ان کے ساتھ کیا کیا اور سامان رسوائی سے رخصت کیا بیچاروں کو۔ ایوب خان ولولہ انگیزقیادت کے حامل تھے۔
انھوں نے ان کو بنیادی جمہوریت کی نعمت عطا فرمائی، یونین کونسل جیسی سوغات سے مالامال کیا، لیکن ان کالانعاموں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟قائد عوام فخرایشیا نے ان کو روٹی کپڑا مکان دیا، اسلام کا دین دیا، جمہوریت کی سیاست دی، سوشل ازم کی معیشت دی، جیالے دیے بلکہ اپنا پورا جمہوری خاندان دیا۔اور ان بدبختوں نے انھیں پھانسی دی۔اور مردحق ضیاالحق نے ان کو کیا کچھ عطا نہیں فرمایا، نیا نویلا میڈ ان امریکا اسلام دیا، عشر و زکوۃ کمیٹیاں دیں بلکہ صلوۃ کمیٹیاں بھی دیں اور ساتھ جہاد کا جذبہ بھی دیا۔لیکن ان منفی لوگوں نے ان کے دامن کو بھی داغدار کیا۔ ارے ہاں ’’شوریٰ‘‘ کو تو ہم بھول گئے وہ بھی تو حضرت ضیاالحق کی عطا ہے۔
دامان نگہ تنگ وگل حسن توبسیا
سب سے بڑا احسان یہ کہ مدرسے دیے جنھوں نے چندے کے دھندے سے ایک الگ اور انتہائی ثواب دارین انڈسٹری اس ملک کو دی ،پھر وہ سیاست دان دیے جنھوں نے اس ملک کو کیا اور کیا نہیں دیا ان کو موٹرویدیں، ٹول پلازے دیے۔قرض اتارو ملک سنوارو دیا۔لیکن ان کالانعاموں نے سب کچھ فراموش کردیا۔
اور جنرل مشرف جس نے اس قوم وملک کو شوکت عزیز جیسا کوہ نور دیا، کارگل دیا ،اور اسے کیا ملا پانچ بار پھانسی۔اور وہ گل سربد جس کے لیے نرگس ہزاروں سال روئی تھی، محترمہ بے نظیر چاروں صوبوں کی زنجیر۔جس نے اس ملک کو دیگر تحائف کے ساتھ ساتھ وہ تحفہ بھی دیا ،،،
جو سب پر اس ملک پر’’بھاری‘‘ نکلا۔اور ابھی تک بھاری ہے۔جس کے اپنے وژن میں ذرہ بھر بھی کمی نہیں آئی اوپر سے ولی عہد اور خاتون اول بھی عطا فرمائی۔بلکہ صدقہ جاریہ برائے ووٹ خریداری انکم سپورٹ۔اور پھر سب سے بڑھ کر’’بانی‘‘ جو اکاش مبانی سے کسی طرح کم نہیں اس نے تو ایسے معجزات دکھائے کہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں، وقت کے پہیے کو پیچھے گھماکر ان بدبختوں کو ریاست مدینہ کا مکین کیا۔ کوئی بتائے تاریخ میں ایسی کوئی اور مثال۔کیا یونانی قدیم یونان کو ٹائم مشین میں ڈال کر واپس لاسکے ،کیا رومی رومن ایمپائر کو لائے پائے ہیں، بغداد کو واپس لایا جاسکا ہے۔
غرناطہ کو کوئی مائی کا لال۔اوپر سے تبدیلی اور نیا پاکستان اور ہاں ’’وژن نیک‘‘ اور نہایت ہی دیندار، پرہیزگار، عبادت گزار سب بیدار، خاتون اول۔لیکن ہم نے کہا نا کہ اس ملک کے یہ خدا مارے، دل آزار کالانعام ہیں ہی ایسے۔کہ کسی کا احسان نہیں مانتے اور فضول فضول قسم کی منفی تنقید کرتے رہتے ہیں، مصنوعی مہنگائی پیدا کرتے ہیں، مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں، مصنوعی بیروزگاری، مصنوعی جرائم اور مصنوعی کرپشن۔اب حالیہ دور میں دیکھیے شاباشیاں شاباشیاں، فتوحات ہی فتوحات، خوشخبریاں ہی خوش خبریاں مل رہی ہیں لیکن یہ سوکھے منہ والے منفی تنقیدیے، ناشکرے، احسان فراموش کالانعام؟؟تفوبرتو اے خرح گردان اور نہ مانوں کالانعام۔