نیشنل لاجیسٹک سیل کی مؤثر حکمت عملی اور علاقائی تجارتی روابط کے ثمرات آنا شروع ہوگئے۔
این ایل سی کی کاوشوں سے خطے کے متعدد ممالک نے خنجراب پاس اور سوست پورٹ کو ایک قابلِ اعتماد تجارتی راہداری کے طور پر اختیار کیا ہے۔
نئے روٹ کے تحت کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان اور ازبکستان کو کراچی بندرگاہ تک براہ راست رسائی میسر ہوگی۔
خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے پاکستان تیز، محفوظ اور قابلِ اعتماد تجارتی راستے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
سال 2024 سے این ایل سی کراچی سے کرغزستان کے مختلف شہروں تک جدید ٹی آئی آر نظام کے تحت کامیاب ترسیل کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تاریخی منصوبہ کے تحت پہلی بار محفوظ اور جدید انداز میں تجارتی رابطے کی وجہ سے افغانستان مکمل طور پر نظر انداز ہو چکا ہے۔ سوست ڈرائی پورٹ بھی سال بھر فعال رہنے کے باعث چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں تسلسل اور استحکام کو یقینی بنا رہا ہے۔