گیلپ پاکستان کے17ویں سہ ماہی بزنس کنفیڈنس سروے اپریل 2026 میں کیا گیا جو ملک بھر کے 510 کاروباری اداروں کی آراء پر مبنی ہے۔
سروے کے مطابق موجودہ کاروباری صورتحال، مستقبل کے امکانات اور ملکی معاشی سمت سے متعلق تمام اہم اشاریے منفی ہیں۔
صرف 41فیصد کاروباری اداروں نے اپنے موجودہ آپریشنز کو’اچھا’ یا ‘بہت اچھا’ قرار دیا، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 13فیصد کم ہے جبکہ مجموعی مثبت رحجان میں 27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ سہ ماہی کے مثبت رجحان کے مقابلے میں مایوسی کی عکاسی ہے۔
کاروبارے ادارے مستقبل کے بارے میں زیادہ مایوسی کا شکار ہیں اور 57فیصد کاروباری اداروں نے مستقبل کے بارے میں منفی خدشات کا اظہار کیا ہے جبکہ صرف 43فیصد نے مستقبل میں حالات کے بہتر ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔
مستقبل کے خالص کاروباری اعتماد کا اسکور گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 25فیصد کم ہوگیا ہے جو بڑھتی ہوئی غیریقینی صورتحال اور کاروباری سرگرمیوں میں سست روی کی نشاندہی ہے۔
ملک کی مجموعی سمت کے بارے میں کاروباری اداروں کا اعتماد گزشتہ سہ ماہی کے منفی 8فیصد کے مقابلہ میں بڑھ کر منفی 32ہوگیا ہے۔
سروے کے مطابق کاروباری جذبات واضح طورپر منفی زون میں داخل ہوچکے ہیں جو معاشی رجحان کے حوالے سے کاروباری طبقے میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی ہیں۔ اسٹرکچرل چیلنجز نجی شعبے پربدستور دباؤ ڈال رہے ہیں۔ 37فیصد کاروباری اداروں نے مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قراردیا ہے جبکہ 25فیصد نے ایندھن اور پیٹرول کی قیمتوں کواہم چیلنج بتایاجو بڑھتی ہوئی لاگت کے دباؤ کا اظہار ہے۔
توانائی کی عدم دستیابی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے اور 57فیصد کاروباری اداروں نے لوڈشیڈنگ کی شکایت کی، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 15فیصد زیادہ ہے۔ بڑھتی ہوئی لاگت کاروباری اداروں کے لیے سب سے بڑا آپریشنل خطرہ ہے۔
62فیصد شرکاء نے مہنگائی اور پیداواری لاگت کو اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔ معاشی نظم و نسق پر اعتماد میں بھی کمی آئی ہے اور 46فیصد شرکاء نے حکومتی کارکردگی میں خرابی کی نشاندہی کی جبکہ صرف 33 فیصد نے بہتری کی رائے دی۔سروے میں علاقائی صورتحال، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات کو بھی ملک کے کاروباری ماحول پر نمایاں طور پر اجاگر کیا گیاہے۔
تقریباً 81 فیصد کاروباری اداروں نے اس کے منفی اثرات رپورٹ کیے، جن کی بنیادی وجہ توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ تقریباً 58فیصد اداروں نے توانائی کے اخراجات میں جبکہ 73فیصد نے مجموعی لاگت میں اضافہ کی اطلاع دی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے 76 فیصد کاروباری اداروں کا خیال ہے کہ اگرخطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ تین ماہ میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کاروباری ماحول کو اس وقت داخلی معاشی دباؤ اور علاقائی و جغرافیائی کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
اگرچہ بعض شعبے اب بھی ریزیلینس کا مظاہرہ کررہے ہیں تاہم مجموعی رجحان مستقبل قریب میں معیشت کے جمود کے خطرات کی نشاندہی کرتاہے۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال آئی گیلانی کے مطابق تمام بڑے اشاریوں میں بیک وقت کمی اس بات کی واضح علامت ہے کہ بیرونی لاگت کے دباؤ کے باعث کاروباری طبقے میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔